تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 484
تاریخ احمدیت جلده 472 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے لئے بے حد مصائب کا باعث ہو گا۔اور مسلمانان ہند بھی یہ دعوئی نہ کر سکیں گے کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں سے عملی ہمدردی کا ثبوت دے رہے ہیں۔کشمیر کمیٹی کے مختلف شعبے ہیں بہت سا رو پید پروپیگنڈا پر صرف ہوتا ہے اور بہت سا روپیہ امداد مظلومین اور اعانت ماخوذین اور مصارف مقدمات اور قیام دفاتر کے سلسلے میں خرچ کیا جاتا ہے۔کشمیر کے تقریبا تمام قابل ذکر مقامات پر کشمیر کمیٹی کے کارکن مصروف عمل ہیں۔اور نہایت امن و امان خاموشی اور آئین کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ کمیٹی کی مالی امداد میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں۔اور یقین رکھیں کہ ان کا ایک ایک پیسه نهایت جائز مصارف پر خرچ ہو گا "۔اخبار "انقلاب" میں ہی مسلمانان راجوری کا مندرجہ ذیل مکتوب مع ادارتی نوٹ شائع ہوا۔”جب سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے اس نے نہایت اخلاص سے مسلمانان کشمیر کی ہر ممکن طریق سے امداد کی ہے اور سینکٹروں تباہ حال مسلمانوں کو ہلاکت سے بچالیا ہے۔اگر اس کے راستے میں بعض لوگ رکاوٹ نہ ڈالتے تو مسلمانان نے اپنے حقوق حاصل کر لئے ہوتے ہمیں افسوس ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کشمیر کمیٹی کو مالی امداد دینے میں بہت کم توجہ کی ہے حالانکہ حقیقی اور ٹھوس کام کشمیر کمیٹی ہی کر رہی ہے۔چنانچہ اس بات کے ثبوت سے ہم اس وقت مسلمانان راجوری کی ایک مراسلت درج کرتے ہیں۔جس میں انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا شکریہ ادا کیا ہے۔اس قسم کے بیبیوں مراسلات ہم کو کشمیر کے مختلف علاقوں سے موصول ہو چکے ہیں جن سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات کا سچے دل سے اعتراف کیا گیا ہے۔مسلمانان را جوری کا مراسلہ یہ ہے۔ہم قصبہ مسلمانان راجوری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہی ایک کمیٹی ہے جو ہر گلی کوچہ میں غریب اور ناتوان مسلمانوں کی خبر لے رہی ہے۔ہم ایک ایسے ویران جنگل کے رہنے والے ہیں۔جن کا خبر گیراں تحت الثریٰ سے لوح محفوظ تک سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں۔مگر اس کمیٹی نے ہماری دستگیری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اور ہم پر بخوبی واضح ہو چکا ہے کہ کمیٹی کی نظر نہایت باریک ہے ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اے زمین و آسمان کے خالق اور دنیا و مافیہا کے ناظم ہماری اس ممد و معاون کمیٹی کو جو آج آڑے وقت میں ہمارے کام آرہی ہے مضبوط کر ، خصوصا صدر صاحب آل انڈیا کمیٹی کے احسانات کو تمام فرقوں کے مسلمان کسی صورت میں بھی بھول نہیں سکتے۔ہمارے بہت سے مصائب کا اس کمیٹی کی مہربانی سے کچھ نہ کچھ ازالہ ہو گیا ہے۔اور ابھی بہت سی مشکلات موجود ہیں۔اگر یہ کمیٹی اپنی پوری کوشش جاری رکھنے میں سرگرم رہی۔تو انشاء اللہ ایک نہ ایک دن ان مصائب سے ہم نجات حاصل کر لیں گے "۔