تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 485
تاریخ احمدیت جلد ۵ 473 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سرینگر کے معزز مسلمانوں نے "انقلاب" (لاہور) میں کشمیر کمیٹی کی شاندار خدمات پر ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے لکھا۔” برادران اسلام ! ہم تمام مسلمانان کشمیر اس وقت مصائب کی چکی میں پیسے جارہے ہیں۔زمین اور آسمان ہم پر تنگ ہو رہا ہے کچھ ہم میں سے شہید ہوئے۔بہت سے زخمی ہوئے بہت سے مقدمات میں گرفتار ہیں۔کچھ بھو کے مررہے ہیں اور بہت سے پریشان ہیں۔اس مصیبت کے وقت میں ہم چاہتے ہیں کہ کوئی خدا کا نیک بندہ ہماری امداد کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا یہودی عیسائی ہو یا ہندو۔کیونکہ اس وقت مذہب کا سوال نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ محض انسانی ہمدردی کی بناء پر کوئی ہماری امداد کرتا ہے یا نہیں۔ان حالات میں ہم تمام مسلمانان کشمیر جناب پریذیڈنٹ صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے شکر گزار ہیں۔کہ انہوں نے ہمارے دو سرے رہبران قوم کے ساتھ شامل ہو کر بہت ہی بلند کام کیا ہے۔اور جو ان تھک کوششیں وہ ہم مظلومین کی امداد کے لئے کر رہے ہیں اس کو بیان کرنے سے ہماری نا چیز زبانیں قاصر ہیں۔ہم کو جناب پریذیڈنٹ صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے عقائد اور اختلافی خیالات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ہم ان کے اختلافی خیالات کے ایسے ہی مخالف ہیں۔جیسے کہ خواجہ حسن نظامی صاحب و دیگر عمائدین دین متین مخالف ہیں لیکن قومیت کے سوال میں عقائد کو چھوڑ کر ان کا کام نہایت ہی قابل تعریف ہے۔پس ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مصیبت کے وقت غدار اور قوم فروش اخبار۔۔۔یہ کونسی خدمت انجام دے رہا ہے۔کہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے سارا اخبار قادیانیت کے جھگڑے میں سیاہ کر کے ہماری مزید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ہم خوب جانتے ہیں کہ نے کشمیر میں آکر اور سرکاری مہمان بن کر اپنی عاقبت کس طرح خراب کی ہے۔اب ہمارے بڑے خیر خواہ بن کر آریہ اخبارات کی کس طرح حمایت شروع کر رکھی ہے۔اس لئے اب ہم مسلمانان کشمیر مجبور ہو کر اس تفرقہ پرداز اور مسلم کش اخبار اور اس کے حوار بین پر نفرت کرتے ہیں۔اور مسلمانان ہند سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اخبار نے کورہ پر دباؤ ڈال کر اسے حرکات ناشائستہ سے رد کیں۔ورنہ ہم لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ہماری پستی اور ذلت کے ایسے نام نہاد اخبار بھی ذمہ دار ہیں۔الراقمان- خواجہ احمد اللہ صاحب جنرل شال مرچنٹ سرینگر ، خواجہ غلام محمد صاحب شمال مرچنٹ سرینگر ، مسٹر غلام نبی مرچنٹ سرینگر ، فقیر سالک صاحب ہمدانی ، سید عبدالغفور شاہ صاحب مفتی ضیاء الدین صاحب سرینگر، حکیم عبدالحی صاحب سرینگر محمد عثمان صاحب بٹ قصبه ترال ، غلام محمد صاحب ترال، خواجہ عبد الرزاق صاحب ترال، حکیم غلام علی صاحب سرینگر ، مسٹر غلام محمد صاحب بی۔اے۔مندرجہ بالا احباب کی طرف سے مجھے خط ہذا آپ کی خدمت میں روانہ کرنے کی ہدایت ہوئی ہے۔