تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 483
تاریخ احمدیت۔جلده 471 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ایسوسی ایشن جموں کا ایک اشتہار یہاں درج کیا جاتا ہے۔جس سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مالی خدمات کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے"۔مصیبت زدہ مسلمانان جموں کی اپیل دردمندان ملت کے نام “۔برادران اسلام السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ پر روشن ہو چکا ہو گا کہ غریب مسلمانان کشمیر کو ابتدائی انسانی حقوق کے حصول میں آج تک کس طرح اپنا قیمتی خون پانی کی طرح بہانا پڑا اور یہ بھی واضح ہو چکا ہو گا کہ ۲ / نومبر کے المناک حادثہ میں جو ۴ / نومبر ۱۹۳۱ء تک جاری رہا۔غریب مسلمانان جموں کو کن روح فرسا مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے بعد بیسیوں ناکردہ گناہ مسلمانوں پر مقدمات دائر کر دیئے گئے ہیں چونکہ کوئی انجمن کافی سرمایہ کی عدم موجودگی میں مذکورہ واقعات سے عہدہ بر آنہیں ہو سکتی آپ کی حمیت اسلامی سے پر زور التجا کی جاتی ہے۔کہ از راہ کرم حتی المقدور مالی امداد سے دریغ نہ فرمائیں ہماری امداد کی خاطر تمام سرمایہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے حساب میں فی الفور جمع ہونا چاہئے۔کیونکہ کمیٹی مذکورہ کی طرف سے کئی ماہ سے باقاعدہ طور پر ایک معتد به رقم ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن جموں کو ماہ بماہ پہنچ رہی ہے۔اور اب ہمیں یہ معلوم کر کے بے حد افسوس ہوا ہے کہ سرمایہ کی کمی کی سے کمیٹی مذکورہ مقروض ہو چکی ہے۔کیونکہ برادران ملت نے یہ خیال فرما کر کہ چونکہ اب کام ختم ہو چکا ہے روپیہ کی ضرورت نہیں رہی۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو مالی امداد بہم پہنچانا ترک فرما دیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ضروریات روز افزوں ہیں ایسی حالت میں کمیٹی مذکورہ کا مقروض ہونا ہماری کم نصیبی کا باعث ہے۔۔۔پریذیڈنٹ محمد امین شاہ - جنرل سیکرٹری شیخ غلام قادر ینگ مینز ایسوسی وجہ ت ایشن جموں"۔اخبار "انقلاب" (1 / مارچ ۱۹۳۲ء) نے لکھا۔" آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے مسلمانان کشمیر کے شہداء پسماندگان اور زخمیوں کی امداد اور ماخوذین بلا کی قانونی اعانت میں جس قابل تعریف سرگرمی محنت اور ایثار کا ثبوت دیا ہے۔اس کو مسلمانان کشمیر کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔اب تک اس کمیٹی کے بے شمار کار کن اندرون کشمیر مختلف خدمات میں مصروف ہیں۔اور ہزار ہا روپیہ مظلومین و ماخوذین کی امداد میں صرف کر رہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں نے اب تک اس کمیٹی کی مالی امداد میں کافی سرگرمی کا اظہار نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کمیٹی ہزار ہاروپیہ کی مقروض ہے۔پچھلے دنوں "انقلاب" میں اس کمیٹی کے مداخل و مخارج بابت ماہ جنوری ۱۹۳۲ء شائع ہوئے تھے جس سے ظاہر ہو تا تھا کہ صرف ایک مہینہ میں خرچ آگے سے بقد ربارہ تیرہ سو روپے کے زائد ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حالات زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی اور قرض پر اتنا بڑا کام چل نہیں سکتا اور اگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو محض قلت سرمایہ کی وجہ سے اپنی خفیہ سرگرمیاں روک دینی پڑیں۔تو یہ امر مسلمانان کشمیر i