تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 482 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 482

جلد ۵ 470 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه -1 ۲ (فصل ششم) مظلومین ریاست کو طبی اور مالی امداد تحریک آزادی کے نتیجہ میں مظلوم ننتے اور مفلوک الحال کشمیریوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے خصوصاً وسط ۱۹۳۱ء سے تو ان کے لئے متعدد ایسے نئے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے جن سے ان کی زندگی در بھر ہو گئی اور قافیہ حیات تنگ ہو گیا۔یہ نئے مسائل اصولی اعتبار سے تین تھے۔ڈوگرہ مظالم سے زخمی ہونے والوں کے علاج کا معاملہ - ایران کشمیر کے اہل و عیال کی مالی ضروریات اور ان کے جرمانوں کی ادائیگی۔تحریک آزادی دبانے کے لئے حکام نے وسیع پیمانے پر مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل خانوں میں ڈال دیا تھا اور ان پر سنگین الزامات عائد کر کے مقدمے چلا دیئے تھے ان کے لئے آئینی امداد کی ضرورت تھی۔ان مسائل کے حل کے لئے بغیر تحریک کشمیر کا اندرون ریاست میں قائم و زندہ رہنا ممکن نہیں تھا الہذا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنے ذاتی اور اپنی جماعت اور ممبران کشمیر کمیٹی کے پورے وسائل و ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ان تمام امور کو طے کرنے میں اپنی پوری طاقت و قوت اور پورے وسائل و ذرائع صرف کر دیے۔زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لئے وفد بھیجے شہدا کے پسماندگان اور نظر بندوں کے اہل و عیال کی ہر ممکن نگہداشت اور خبر گیری کا وسیع انتظام کیا حتی کہ قید ہونے والے لیڈروں کے جرمانے اپنے لنڈ سے ادا کئے۔اس سلسلہ میں پہلا وفد چوہدری عصمت اللہ خان صاحب بی ایس سی۔ایل ایل بی اور متعدد ڈاکٹروں پر مشتمل تھا۔جو ۱۴/ اگست ۱۹۳۱ء سے قبل ہی جموں و سرینگر بھیج دیا گیا تھا۔اس کے بعد دو طبی وفد اور بھجوائے گئے ایک کے انچارج میجر ڈاکٹر شاہ نواز تھے اور دوسرے کے ڈاکٹر محمد منیر صاحب پہلا وفد میر پور گیا تھا اور دو سرا بھمبر - یہ تمام حقائق اخبار الفضل اور جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی طرف سے آنے والے مختلف پرائیویٹ خطوط سے واضح ہوتے ہیں۔جو آج تک کشمیر کمیٹی کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔مگر اس تفصیل میں جانا ہم مناسب نہیں سمجھتے البتہ ذیل میں بعض اہم آراء کا ذکر کر دینا مناسب ہو گا۔ینگ مینز مسلم