تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 437
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 425 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمد یہ سہولتیں میسر ہو سکتی تھیں مگر میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں اپنے ہی ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔۵۲ اصلاح ۲۷/ نومبر ۱۹۳۵ء صفحه ۲ ۵۷- جناب مولوی محمد عبد اللہ صاحب وکیل کشمیر کے ایک فرزند مشتاق احمد فاروق ایڈوکیٹ اس کی تفصیل میں لکھتے ہیں " مجھے تحریک کشمیر سے نہ صرف ایک کشمیری تعلیم یافتہ اور محب وطن کی حیثیت سے ہی دلچسپی رہی ہے بلکہ اس لئے بھی زیادہ اور غیر معمولی دلچسپی رہی ہے کہ تحریک کا آغاز سرینگر میں والد صاحب مرحوم مولوی محمد عبد اللہ وکیل کی کوششوں کا نتیجہ تھا والد مرحوم نے ایک کتابچہ (مارچ ۱۹۳۱ء کے قریب ناقل) دور جدید کے عنوان سے لکھا اس سے قمل وہ مذہبی تبلیغ و معاشرتی اصلاح وبہبود کا کام کرتے رہے اور دور جدید کے شائع ہوتے ہی والد بزرگوار نے سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں او معرفی مدل ریڈ مگ روم کے نوجوانوں کی پشت پناہی اور ہدایت کا کام جہاں والد بزرگوار نے سنبھالا ادھر جموں میں مستری یعقوب علی مرحوم وہاں کے نوجوانوں کی پشت پناہی اور ہدایت فرمارہے تھے والد صاحب اور مستری یعقوب علی صاحب چونکہ دونوں کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا اور جماعت احمدیہ میں والد صاحب کو ان دنوں خاص مقام حاصل تھا۔اس لئے تحریک کشمیر کا ہیڈ کوارٹر ہمار امکان بن گیا۔"انصاف" راولپنڈی ۱۱ / فروری ۱۹۶۵ء صفحه ۲ کالم (۳) ۵۸ - دسمبر ۱۹۰۵ ء میں ہمقام سرینگر پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے پندرہ روز تحمل آپ کے والد ماجد شیخ محمد ابراہیم صاحب کا انتقال ہوچکا تھا۔آپ کی والدہ محترمہ کے پاس جس قدر دنیاوی دولت تھی وہ انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر نثار کر دی ۱۹۲۲ء میں دسویں جماعت کا امتحان پاس کرتے ہی شفیق والدہ کا سایہ بھی سرسے اٹھ گیا۔مگربڑی بڑی مالی مشکلات برداشت کرتے ہوئے آپ نے تعلیم جاری رکھی اور سرینگر سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے آپ کو بچپن ہی سے اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کی مظلومیت پر افسوس ہو تا تھا اور دل خون ہو ا جاتا تھا اور آنکھیں فرط ہمدردی سے پر نم ہو جاتیں۔سرینگر اور لاہور دنوں جگہ آپ نے اپنے ہم وطنوں کی زبوں حالی کے تڑپا دینے والے مناظر دیکھے۔۱۹۲۸ء میں اسلامیہ کالج سے بی ایس سی کا امتحان پاس کر کے علی گڑھ کالج چلے گئے یہاں آپ پر کیا بیتی اس داستان مظلومیت پر شیخ محمد عبد اللہ صاحب ان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں۔وہاں بھی میری حالت ایسی تھی میرے لئے کشمیری ہونا ایک عیب تھا جو لاہور میں معاف کیا گیا اور نہ علی گڑھ میں وطن اور وطن سے باہر اپنے عزیز وطن اور اہل وطن کی یہ ذلت و رسوائی دیکھ کر میرادل پاش پاش ہو گیا۔اور میں نے بے زبان کشمیریوں کے استخلاص کے لئے دعا کی اور کچے دل سے یہ حلف اٹھایا کہ میں یا تو اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کو ان مصائب سے نجات دلاؤں گا یا خود بھی میاد کے ظلم و ستم کا شکار ہو جاؤں گا۔۱۹۳۰ء کے آغاز میں آپ ایم ایس سی (کیمسٹری) کی ڈگری حاصل کر کے سرینگر آگئے اور گورنمنٹ ہائی سکول سرینگر میں بطور سائنس ماسٹر کام کرنے لگے آپ ایم ایس سی تھے لیکن ڈوگرہ حکومت نے آپ کو ساٹھ روپے ماہوار تنخواہ اور ۲۳ روپے الاؤنس کی ملازمت دی حالانکہ آپ سے کم تعلیم یافتہ ہندو بڑے بڑے عہدوں بلکہ وزارتوں پر قابض تھے۔" نقوش ! اور آپ بیتی نمبر صفوی به ۱۰۳ ۱۰۴، شیر کشمیر ۱۶ ۸۰ ۵۹ - الفضل ۱۸/ ستمبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عظیم کی سرگرمیاں نمایاں رنگ میں وسط ۱۹۳۲ء سے پبلک کے سامنے آنے لگیں جبکہ گلانسی سفارشات منظور ہو گئیں الفضل نے نوجوانوں کی اس تنظیم کی خبر دیتے ہوئے لکھا یہ بات مسلم ہے کہ مسلمانان کشمیر بیدار ہو چکے ہیں۔۔۔خداتعالی ان کی ہمتوں میں برکت دے۔اخبار "ہمار ا کشمیر مظفر آباد ۲۶ / جولائی ۱۹۵۲ء صفحہ ۳۔اس پہلے اجلاس میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب۔غلام احمد صاحب عشائی اور مولوی محمد سعید صاحب جیسے زعماء میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا بعض شامل ہونے والے نوجوان یہ تھے۔خواجہ غلام کی صاحب گلکار - خواجہ محمد رجب صاحب (حال مجسٹریٹ مقبوضہ کشمیر) ملک محمد صدیق صاحب، مولوی بشیر احمد صاحب ابن مولوی عبد اللہ ، خواجہ عبد الغنی پلوامی ، غلام احمد صاحب ظہرہ محمد یکی صاحب رفیقی، غلام نبی صاحب رفیقی، خواجہ عبد الصمد صاحب درزی ، محمد مقبول صاحب کو زکر مبارک شاہ صاحب نقشبندی، پیر سیف الدین صاحب پیر حفیظ اللہ صاحب کاش ملک غلام نبی صاحب درزی ، ملک عبد القدیر صاحب ، غلام محمد صاحب باغ غلام رسول صاحب دیر غلام محمد صاحب بٹ، ماسٹر غلام محمد صاحب زینہ کدلی، خواجہ علی محمد صاحب سقہ مفتی جلال الدین پیر عبد القدوس صاحب غلام محمد صاحب ہانڈے ماسٹر محمد اسمعیل صاحب اسلام آبادی وغیرہ - ( آواز حق مظفر آبادی / ستمبر ۱۹۵۴ء صفحه ۲۵۹)