تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 420
تاریخ احمدیت جلد ۵ 408 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ رونے کی آواز سنی ایک آدمی جو پل کے اوپر سے جا رہا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ شور کیسا ہے اس نے جواب دیا کہ ایک آدمی اپنی موت سے مرا ہے عورتیں اس کا ماتم کر رہی ہیں۔اس کے دو منٹ بعد میں نے گولی چلنے کی آواز محلہ تاشو ان کی طرف سے سنی اتنے ہی میں اسی طرف سے ملٹری والوں کو آتے دیکھا اور میں بھی اسی وقت اپنے گھر سے باہر نکلی۔میرالڑ کا میرے ساتھ تھا میں نے ایک اور لڑکے کو جو پل پر کھڑا تھا دیکھا جب ملٹری پل سے گزری تو ایک سپاہی نے اس لڑکے کا تعاقب کیا اور گولی چلائی اور وہ لڑکھڑا کر قصائی اور نان بائی کی دکان کے درمیان گر گیا۔میرالڑ کا جو میرے ساتھ اس کی مدد کے لئے دوڑا اس پر بھی ایک گولی دوسرے سپاہی نے چلائی لیکن گولی کا نشانہ خطا گیا۔اور میرالر کا بچ گیا اتنے میں ایک ماشکی جو سامنے سے آرہا تھا اس پر بھی ایک گولی چلائی اور وہ بھی گر گیا ایک تیسرا شخص جو کہیں جا رہا تھا اس پر بھی گولی چلائی گئی جس وقت وہ دم تو ڑ رہا تھا اس پر دو اور فائر کئے گئے یہ سارا واقعہ دو تین منٹ میں ہوا میں نے انہیں کہا تم لوگوں کو کس نے اس طرح گولیاں چلانے کی اجازت دی ہے مجھے لکھت دکھاؤ انہوں نے جواب دیا ہم کو اجازت ہے اور چلے گئے ایک شخص جو کہ نواکدل کی طرف سے بائیسکل پر آرہا تھا مجھے گھبرایا ہوا دیکھ کر مجھ سے دریافت کرنے لگا کہ کیا معاملہ ہے میں نے صرف اتنا کہا کہ جاکر ملٹری افسر کو ٹیلیفون کر دو اور کہہ دو کہ اس محلہ میں بلاوجہ گولی چلائی جارہی ہے اور ہم لوگ خطرہ میں میں وہ چلا گیا تھوڑی دیر بعد آفیسر آگئے اور مجھ سے دریافت کیا تو میں نے اصلی واقعات سنا دیئے"۔الغرض مسلمانوں کو قتل کرنے کے علاوہ لوٹا گیا اور کثیر التعداد کو جیل خانہ میں بھیج دیا گیا عورتوں کی بے حرمتی فوجیوں اور پنڈتوں نے مل کر کی۔مسلمانوں کے گھروں کی تلاشیاں لی گئیں ابھی سلسلہ جاری ہے اور بغیر کسی مدعی کے صرف ایک ہندو کے کہنے پر محلہ محلہ کی تلاشی لی جاتی ہے۔سپاہیوں کی پنڈتوں نے خوب خاطر و مدارات کی اور بہت عمدہ کھانے کھلائے پنڈتوں کے اس منصوبے کی (جو انہوں نے مسلمانوں کو مٹانے کے لئے باندھ رکھا ہے) دلیل یہ ہے کہ جموں میں پہلے مسلمانوں پر بم پھینکا گیا اور سرینگر کے شفا خانے سے ایک پنڈت کے ذریعہ جو وہاں کا ملازم ہے پکرک ایسڈ کی ایک کثیر مقدار چرائی قتل وغارت کے علاوہ اندھا دھند گرفتاریاں کر کے کثیر جماعت پر نشد دکیا گیا۔اور پانی بند کر کے پیا سمار کھا گیا۔صدہا مسلمانوں کو گھروں سے نکالکر جیل میں ڈالا گیا۔جس میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا کہ خدا کی پناہ اب (۴/ اگست) تک دریا سے نعشیں مل رہی ہیں۔صدہا ایسی مثالیں ہیں جن سے یہ ایک منظم سازش ثابت ہے۔مولوی نور الدین قاری جو ایک بہت ہر دلعزیز مسلم ٹیچر ہیں سکول سے نکلتے ہی پکڑ لئے گئے اور ان کو ایک کوچہ کی طرف لے گئے اور خوب