تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 421
تاریخ احمدیت جلد ۵ 409 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مارا۔اور آخر چند یوم حوالات میں رکھا۔محلہ نوا بازار بری کدل - مہاراج گنج - ڈومہ کدل - دچار ناگ۔وغیرہ وغیرہ مقامات پر ہندوؤں نے مسلمانوں کو قتل کیا لیکن حکومت نے آج تک کوئی تفتیشی کارروائی نہیں کی۔اور نہ ہی ہندوؤں کو پکڑا ہے۔مسلمانوں نے جب اصرار کیا کہ شہر میں تحقیقات کی جائے تو ایک ہندو اور ایک مسلمان افسر مقرر کیا گیا لیکن مسلمان افسر بھی حکومت کے اعلیٰ ارکان کی خوشنودی کی خاطر مسلمانوں کے خلاف کار روائی کرتے ہیں کیونکہ انہیں ملازمت سے علیحدگی کا خوف ہے چنانچہ کچھ ملازم مسلمان اور کچھ معلمات معطل کی گئی ہیں غرضیکہ مسلمان نہایت بے کس بے بس ہیں نہ قانونی امداد میا ہے "۔ان واقعات نے کشمیر میں گویا ایک قیامت برپا کر دی اور سرینگر کے مسلمان محلہ جات نے ماتمی لباس پہن لیا۔اور شہر میں عام ہڑتال ہو گئی جو متواتر سترہ دن تک جاری رہی اس پر ریاست نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی پوزیشن کے بچاؤ کے لئے فوری طور پر دو تدبیریں اختیار کیں ایک تو یہ کہ خبروں پر سنسر لگادیا تا کوئی خبر جو اصل حالات کو منکشف کرے یا جو ریاست کے مفاد کے خلاف ہو بذریعہ تار یا ڈاک باہر نہ بھیجی جاسکے۔دوسری تدبیر ریاست نے یہ کی کہ فوراً ایک تحقیقاتی کمیشن کا اعلان کر دیا مگر یہ خدا کا فضل ہوا کہ حکام ریاست کی یہ ہر دو تجویزیں ناکام رہیں یعنی اول تو باوجود سنسر وغیرہ کی کوشش کے بیرونی دنیا تک حقیقت حال پہنچنے سے نہ رکی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو سیالکوٹ سے بذریعہ تار اس کی اطلاع پہنچ گئی دوسرے مسلمانان کشمیر نے یہ دیکھتے ہوئے کہ ریاست کا مقرر کیا ہوا کمیشن صحیح معنوں میں غیر جانبدار کمیشن نہیں ہے اور ان کو اس سے انصاف کی توقع نہیں ہو سکتی غیر معمولی جرات سے کام لیا اور کمیشن کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا جس پر یہ کمیشن تو ڑنا پڑا۔اس کے بعد نیا کمیشن مقرر کرنا پڑا جو جانبدار ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا اعتماد حاصل نہ کر سکا۔حکام ریاست کی مکروہ ذہنیت کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ جب جماعت احمدیہ نے ریاست سے یہ استدعا کی کہ زخمی مسلمانوں کی طبی امداد کے لئے ایک طبی وفد کو ریاست میں آنے کی اجازت دی جائے تو ریاست نے یہ عذر کر کے کہ تمام ضروری طبی انتظامات پہلے سے مہیا ہیں اجازت دینے سے انکار کردیا حالانکہ اس وفد کی تجویز خود مسلمانان کشمیر کی اس درخواست پر کہ ہمیں طبی امداد کی ضرورت ہے کی گئی تھی۔بے تحریک آزادی کے لیڈروں کی گرفتاری حکام ریاست نے بے گا، فرزندان توحید کو شهید یا زخمی کرنے اور ان کی لاکھوں روپے