تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 419
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 407 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہو گئے وکلاء ملزم اور سپاہی واپس صحن جیل میں آگئے۔گورنر کشمیر مع پولیس موجود تھے انہوں نے پولیس کو مجمع سے لوگوں کو گرفتار کرنے کے لئے کہا۔پولیس والے ہتھکڑیاں لے کر دوڑے اور باغ والے لوگوں کو گر فتار کرنا شروع کیا جو نماز کے لئے تیاری کر رہے تھے چند اشخاص کو گر فتار کر کے جیل میں ڈال دیا اس تشدد کو دیکھ کر مجمع میں شور پیدا ہوا اور فورا گولی چلادی گئی اگر محض مجمع کو منتشر کرنا مقصود ہو تا تو اس کے لئے زیادہ سے زیادہ لاٹھی چارج کافی تھا مگر ایسانہ کیا گیا بلکہ گولی چلائی گئی جس سے بے بس اور نہتے مسلمان اس طرح کرے جس طرح درخت سے پتے کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی پتھر بھی آتے رہے۔غرضیکہ اس گولی کے چلنے سے کچھ اصحاب قتل ہوئے اور بہت سے زخمی ہوئے مجمع نے بھاگنا شروع کیا تو پولیس والوں نے کہا کہ پولیس لائن کو آگ لگ گئی مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی جگہ نہیں پہلی۔بیان کیا جاتا ہے کہ پولیس والوں نے خود ہی آگ لگائی اور خود ہی بجھائی حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ اگر کوئی آگ لگا تا تو وہ موقع پر گرفتار ہوتا۔کیونکہ پولیس مسلح ہو کر موقعہ پر حاضر تھی کسی قیدی نے مسلح پولیس سے بندوق چھینے کی کوشش نہیں کی نہ کسی مسلمان سے کسی سپاہی نے تعرض کیا مجمع کو تنبیہہ نہیں کی گئی کہ تم منتشر ہو جاؤ۔نہ مجمع خلاف قانون تھا اور نہ مجمع نے حملہ کیا ٹیلیفون اور تار کے کاٹنے کا واقعہ سرا سر غلط ہے جب پہلے بندوقیں چلیں تو جو ابا لوگوں نے کچھ پتھر مارے گولی آنا فانا چلائی گئی لوگ و چار ناگ (قصبہ کا نام ہے) کی طرف نہیں گئے اور نہ ہی ان لوگوں نے شہر کا رخ کیا بلکہ اس قتل عام سے بچنے کے لئے ہندوؤں نے شور ڈال دیا اور لوٹ مار کی داستانیں بنائی گئیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ جس جگہ بھی شہر میں لوٹ مار کی داستانیں بنائی گئی ہیں وہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے اور جس جگہ شہری پنڈتوں کی آبادی کم ہے وہاں کوئی شکایت لوٹ مار کی نہیں ہوئی اس کے علاوہ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ جس جگہ شہر میں لوٹ مار کی کہانی بیان کی گئی ہے آج برابر پچپن دن کے بعد تلاشی لینے پر ہندوؤں کی دوکانوں کا مال ان کے گھروں سے نکل رہا ہے۔ملٹری مع سواروں کے شہر میں روانہ کی گئی۔ملٹری کے سپاہیوں اور سواروں سے ہتھیار لے کر انہیں چھاؤنی میں ہی رکھا گیا اور خاص طور پر ہندو ملٹری شہر میں متعین کی گئی (یہ وہی فوج تھی جس کو صرف ایک ہفتہ پہلے ہندوؤں نے یہ کہہ کر کہ مسلمان گائے ذبح کرنے والے ہیں مشتعل کیا ہوا تھا اور وہ پہلے۔سے مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے) غرضیکہ فوج نے شہر میں داخل ہو کر وہ تباہی مچائی کہ ہلاکو خاں کے مظالم کی از سر نو یاد تازہ ہو گئی۔ایک نو سالہ لڑکی کی ناک کائی گئی اور اس کو دریا میں ڈبو دیا گیا اس سلسلے میں ایک معزز غیر مسلم خاتون کا بیان ملاحظہ ہو جو یہ ہے۔مورخہ ۱۵ / جولائی ۱۹۳۱ ء دس بجے کے قریب محلہ تاشو ان کی طرف سے میں نے عورتوں کے