تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 406
تاریخ احمدیت۔جلد 2 402 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ دوسرے مسلم نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی۔اسی دوران میں مسلم نمائندگان کے انتخاب کے لئے ۲۱ / جون ۱۹۳۱ء کو خانقاہ معلی سرینگر کے کھلے صحن میں ایک عظیم الشان اسلامی جلسہ منعقد ہوا۔پنڈت پریم ناتھ بزاز نے اپنی کتاب "INSIDE KASHMIR" کے صفحہ ۱۲۵ پر لکھا ہے کہ یہ تحریک آزادی کی تاریخ میں نہایت اہم جلسہ تھا جس میں میرواعظ یوسف شاہ اور مولوی عبد اللہ وکیل " مرزائی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تمام فرقہ وارانہ اختلاف یکسر نظر انداز کر دیئے گئے اور سنی شیعہ خفی رہائی اور احمدی پوری طرح اپنے مطالبات منوانے کے لئے متفق و مجتمع ہو گئے۔مسلمان لیڈروں نے اس موقعہ پر حلفا عہد کیا کہ وہ آخر دم تک اپنے مقاصد کی خاطر نبرد آزمار ہیں گے۔اس جلسہ میں مختصر مگر پر جوش تقریریں ہوئیں اور شیخ محمد عبد اللہ صاحب، میر واعظ احمد اللہ صاحب ہمدانی، میر واعظ محمد یوسف شاہ صاحب، خواجہ سعد الدین صاحب شال، خواجہ غلام احمد صاحب عشائی، منشی شهاب الدین صاحب، آغا سید حسین شاہ صاحب جلالی کا انتخاب (بطور نمائندگان) عمل میں آیا۔جلسہ کے آخر میں ایک صاحب عبد القدیر خاں جو امروہہ (یو پی) کے باشندے تھے اور بعض انگریزوں کے گائیڈ کے طور پر کشمیر آئے ہوئے تھے بڑے جوش سے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے ایک کونے میں کھڑے ہو کر جموں کے گزشتہ واقعات دہراتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو بے غیرتی کی زندگی AF چھوڑ دینی چاہئے۔قرآن کو اٹھا کر زمین پر پھینکا جاتا ہے اور راجہ کچھ نہیں سنتا تو ایسے راجہ کو پتھروں اور اینٹوں سے بات سنانی چاہئے اس تقریر کے نتیجہ میں انہیں ۲۵/ جون ۱۹۳۱ء کو نگین باغ سے جہاں وہ کسی یورپین کے ساتھ فرد کش تھے گرفتار کر لئے گئے۔اور دفعہ ۱۲۴ الف و دفعہ ۱۵۳٬۱۵۱ کے تحت عوام کو اکسانے اور رعایا میں منافرت پھیلانے کے جرم میں ان کا چالان کر دیا گیا۔۶-۷-۸-۹/ جولائی ۱۹۳۱ء کو سیشن کورٹ میں سماعت ہوئی۔AF حضرت خلیفہ مقدمہ عبد القدیر خان صاحب اور مہاراجہ جموں و کشمیر کا اعلان المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ ابتداء ہی سے عبد القدیر خان صاحب کے مقدمہ میں گہری توجہ و دلچسپی لے رہے تھے اور سرینگر کے احمدی نوجوان حضور کو تازہ اطلاعات برابر پہنچاتے آرہے تھے چنانچہ ۱۰/ جولائی ۱۹۳۱ء کو جناب محمد یوسف صاحب بی۔اے (جو بعد کو ایل ایل بی ہو کر وکیل بنے) نے سرائے صفاکدل سے حسب ذیل خط لکھا جس سے اس زمانے کے ماحول پر خوب روشنی پڑتی ہے۔