تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 407 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 407

تاریخ احمد بیست - جلده 403 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سرائے صفاکدل سرینگر کشمیر ١٠/٣١ بحضور حضرت اقدس خلیفتہ المسیح ایده الله بنصره آقائی ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته گذشتہ خطوں میں کچھ حال عرض خدمت کیا جاچکا ہے ان دنوں کوئی خاص امر تو پیش نہیں آیا البتہ مسٹر عبد القدیر جنہوں نے توہین قرآن کریم کے متعلق تقریر کی تھی اور جن کی گرفتاری کی اطلاع حضور کو ہو چکی ہے۔ان کا مقدمہ سیشن جج کی عدالت میں چل رہا ہے۔پولیس اور C۔H۔D کی شہادتیں ہو چکی ہیں۔عبد القدیر صاحب کی طرف سے مولوی محمد عبد اللہ صاحب وکیل ، مولوی قمر الدین صاحب اور دو ایک اور وکیل پیروی کر رہے ہیں اور سب مفت کام کر رہے ہیں لیکن ان سب وکلاء کی رائے ہے کہ باہر پنجاب یا ہندوستان کا کوئی اچھا وکیل یا بیرسٹر چاہئے کیونکہ ریاستی و کلا بعض Paints کھول کر بیان نہیں کر سکتے۔ان کو ریاست کی طرف سے خطرہ رہتا ہے۔کل ایک تارسید محسن شاہ سیکرٹری کشمیری کانفرنس کو اسی مضمون کا دیا گیا تھا۔جو آج آپ کی خدمت میں دیا گیا رہاں سے آج جو اب نہ آنے پر مسٹر عبد اللہ اور مسٹر عبدالرحیم نے مجھ سے آپ کی خدمت میں تار دلوایا ہے اس Case میں باہر کے کسی قابل وکیل یا بیرسٹر کی ازحد ضرورت ہے جو ریاست سے بالکل نہ ڈرے اور ہر ایک بات کو کھول کر بیان کر سکے۔اگر اس Case میں مسلمان دب گئے تو اوروں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا یہ ایک قسم کا مسلمانوں کی طاقت کا امتحان لیا جا رہا ہے اس لئے زبردست Defence کی ضرورت ہے اس وقت تک مولوی عبد اللہ صاحب نے مقدمہ کو نہایت قابلیت اور محنت سے چلایا ہے اور مقدمہ کو لمبا کر رہے ہیں تاکہ اس دوران میں باہر سے کوئی مدد آ جائے۔یہ مقدمہ یہاں کے High Court میں بھی جائے گا۔مسلمانان کشمیر حضور والا سے امید رکھتے ہیں کہ حضور اس نازک موقع پر ان کی مدد فرما ئیں گے۔۔۔غالبا اس سے قبل مسٹر محمد عبد اللہ کی طرف سے یا ان کے ایما کے مطابق کسی اور صاحب کی طرف سے حضور کو مل چکا ہو گا۔حضور کے دوسرے مضمون نے جو الفضل میں شائع ہوا۔بہت مفید نتیجہ یہاں پیدا کیا ہے اور مطالبات میں ان مضامین سے Points لئے جارہے ہیں یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی توجہ حضور کی طرف بہت زیادہ ہو گئی ہے اور اب ہر بات میں وہ حضور کی طرف رجوع کرتے ہیں۔آج یہاں کی نمائش گاہ میں ایک سرکاری پبلک جلسہ ہوا۔گور نر صاحب نے مہاراجہ صاحب کا اعلان پڑھ کر سنایا۔حاضرین کی تعداد دو اڑھائی ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔اعلان کا مضمون یہ تھا کہ