تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 405
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 401 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت از ہو جا ئیں تو قریباً تین لاکھ روپیہ پنجاب میں ہی جمع ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس جدوجہد میں بہت کچھ روپیہ بھی صرف کرنا پڑے گا اور بغیر ایک زیر دست فنانشل کمیٹی کے جس پر ملک اعتبار کر سکے۔کسی بڑے چندہ کی تحریک کرنا یقیناً مسلک ثابت ہو گا۔میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب ، شیخ دین محمد صاحب سید محسن شاہ صاحب اور اسی طرح دو سرے سر بر آوردہ ابنائے کشمیر جو اپنے وطن کی محبت میں کسی دوسرے سے کم نہیں ہیں اس موقعہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے موجودہ طوائف الملوکی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب طاقت ضائع ہو جائے گی اور نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف سے ہی وہ زمانہ ہے جس کی نسبت تحریک آزادی مظلومین کشمیر کی فوری اعانت کے ایک مشہور لیڈر مفتی ضیاء الدین صاحب ضیاء سابق مفتی اعظم پونچھ اپنے منظوم کتا بچہ نوحہ کشمیر میں لکھتے ہیں۔آغاز تحریک آزادی میں مظلوم کشمیریوں کی طرف سے زعما ء ہندوستان کی خدمت میں خطوط بھیجے گئے جن میں ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال صاحب (شاعر مشرق)، جناب شیخ صادق حسن صاحب امرت سری امام جماعت احمدیہ اور خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی شامل ہیں اور کہا گیا کہ مظلوموں کی مدد کیجئے۔(امام جماعت احمدیہ کے سوا سب کی طرف سے یہ جواب آیا کہ آپ نے ایسے خطر ناک کام میں کیوں ہاتھ ڈالا اور بس۔صرف امام جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے یکمشت ایک خطیر رقم مظلومین کشمیر کی امداد کے لئے موصول ہو گئی۔خانقاہ معلی (سرینگر) میں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع قبل ازیں مسٹر و یکفیلڈ کے مشورہ پر جموں کے وفد کی تشکیل پر روشنی ڈالی جا چکی ہے اب یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ وفد جب سرینگر میں پہنچا تو سرینگر میں بھی تحریک آزادی پہلے سے زیادہ زور پکڑ گئی۔اس وقت تک ریڈنگ روم پارٹی نے سرینگر کے دونوں مذہبی رہنماؤں یعنی میر واعظ احمد اللہ صاحب ہمدانی اور میر واعظ یوسف شاہ صاحب کا تعاون حاصل کر لیا تھا۔اور جامع مسجد سرینگر اور خانقاہ معلیٰ میں باقاعدگی سے اجلاس ہو رہے تھے چنانچہ سرینگر کی جامع مسجد میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے اہتمام سے ایک جلسہ منعقد ہوا۔جو تمہیں ہزار مسلمانوں پر مشتمل تھا یہ ریاست کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا جلسہ تھا جس میں سیاسی تقریر میں ہو ئیں اور مسلمانوں کو اپنے پیدائشی حقوق حاصل کرنے کی تلقین کی گئی۔اس کے بعد جامع مسجد ریڈنگ روم پارٹی اور