تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 398
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 394 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کر خاموش کر دیا جائے۔میرے خیال میں کشمیری کانفرنس نے جو کچھ کام اس وقت تک کیا ہے وہ قابل قدر ہے لیکن یہ سوال اس قسم کا نہیں کہ جس کو باقی مسلمان کشمیریوں کا سوال کہہ کر چھوڑ دیں مسلمانان جموں و کشمیر کو اگر ان کے حق سے محروم رکھا جائے تو اس کا اثر صرف کشمیریوں پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ سارے مسلمانوں پر پڑے گا اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے مسلمان تماشائی کے طور پر اس جنگ کو دیکھتے رہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کی دعوت کشمیری کانفرنس کی طرف سے جاری ہونی چاہئے لیکن دعوت صرف کشمیریوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ تمام مسلمانوں کو جو کوئی بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اس مجلس میں شریک ہونے کی دعوت دینی چاہئے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر متحدہ کوشش کی جائے تو اس سوال کو جلد سے جلد حل نہ کیا جا سکے " حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے آزادی کشمیر میں دلچسپی لینے کے فوری وجوہ مسئلہ کشمیر کے لئے میدان عمل میں آنے کے چار اہم وجوہ و اسباب تھے۔جن پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے قلم سے روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:۔" مجھے جو فوری توجہ کشمیر کے مسئلہ کی طرف ہوئی اس کی چار وجوہات تھیں پہلی وجہ تو یہ تھی کہ میں کشمیر کا کئی دفعہ سفر کر چکا تھا۔اور میں نے وہاں کے مسلمانوں کی مظلومیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا تھا۔اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پچاس ہزار کے قریب وہاں احمد ہی تھے جن کے حالات احمد یہ جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے مجھے قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملتا تھا۔اور اس وجہ سے ان کی مظلومیت مجھے پر زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوتی رہتی تھی۔تیسرے نواب امام دین صاحب جو مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھ بادشاہ کے زمانہ میں جالندھر کے گورنر تھے ان کو کشمیر کے خراب حالات دیکھ کر سکھ گورنمنٹ نے گورنر بنا کر کشمیر بھجوایا کشمیر کے حالات خراب تھے خصوصاً اردگرد بسنے والے ڈوگروں کی وجہ سے یہ خرابی بڑھ گئی تھی۔اس لئے نواب امام دین صاحب کا یہ خیال تھا کہ یہ کام آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے انہوں نے سکھ گورنمنٹ سے اصرار کیا کہ مجھے اپنے ساتھ بطور مددگار میرزا غلام مرتضی رئیس قادیان کو بھی ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے۔میرزا غلام مرتضی صاحب میرے دادا تھے اور نواب امام دین صاحب کے نہایت گہرے دوست تھے چنانچہ یہ دونوں کشمیر گئے اتنے میں انگریزوں اور سکھوں کی لڑائی ہوئی۔اور انگریزوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے لڑکے پر فتح پائی اور انہوں نے تاوان جنگ کے طور پر ۷۵ لاکھ نانک شاہی روپیہ مانگا۔جو تقریباً پچاس لاکھ موجودہ سکہ کے برابر تھا۔چونکہ سکھ خزانے اس وقت خالی تھے اور انگریزوں نے جو سکھوں پر فتح پائی تھی اس میں اندرونی سازش مہا راجہ