تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 399 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 399

تاریخ احمد جلد ۵ 395 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ دھیان سنگھ جرنیل مجیٹھ اور جرنیل سردار گلاب سنگھ بھاگو والیہ (جو رشتہ داری کے لحاظ سے پٹیالہ اور کپور تھلہ سے ہی تعلق رکھتا تھا) کی تھی اس لئے انگریزوں نے سکھ حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ۷۵ لاکھ چہرہ نانک شاہی کے بدلہ میں کشمیر مہاراجہ گلاب سنگھ کے پاس بیچ دیں۔اس کے بعد ریاست کشمیر نے اپنے ارد گرد کا ایک وسیع علاقہ جو چھوٹے چھوٹے مسلمان حکمرانوں کے ماتحت تھا قیام امن کے نام سے فتح کیا۔گلگت کا بہت سا علاقہ مظفر آباد کا بہت سا علاقہ اور ریاسی کا بہت سا علاقہ سب اسی قسم کا ہے مہاراجہ گلاب سنگھ کے پاس اس جائداد کے جانے سے اس سکیم کی وجہ سے جس پر ڈوگرے عمل کرنا چاہتے تھے یعنی مسلمان ریاستوں کو تباہ کر کے ریاست جموں و کشمیر میں ملانا چاہتے تھے نواب امام دین صاحب نے بغاوت کرنا چاہی اور ان مسلمان ریاستوں کا ایک حصہ بنانا چاہا۔لیکن باقی مسلمانوں نے ان کو مشورہ دیا کہ یہ لڑائی انگریزوں کے ساتھ ہوگی۔اور انگریزوں کے ساتھ پہاڑی نواب نہیں لڑسکتے ہیں اس لئے نواب امام دین صاحب چارج دیکر وہاں سے آگئے۔چوتھی وجہ کشمیر میں دلچپسی کی یہ تھی کہ میرے استاد اور جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ اور میرے خسر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کشمیر میں بطور شاہی حکیم کے ملازم رہے تھے اور راجہ ہری سنگھ کا باپ امر سنگھ اور چا رام سنگھ اس وقت دونوں ۱۵-۱۵-۱۲-۱۶ سال کی عمر کے تھے۔ان دونوں نے اسلام کی خوبیوں کو محسوس کیا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب سے خواہش کی کہ وہ انہیں قرآن شریف پڑھا ئیں اور آپ نے ان کو مخفی طور پر قرآن شریف پڑھانا شروع کیا۔۱۴- ۱۴- ۱۵-۱۵ پارے پڑھے تھے کہ اس وقت کے مہاراجہ کو خبر ہو گئی جو مہاراجہ ہری سنگھ موجودہ راجہ کے تایا تھے اور ان کا نام پر تاپ سنگھ تھا انہوں نے اسی وقت مولوی صاحب کو تو تین دن کے اندراندرجموں سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔اور ان لڑکوں کو عملاً نظر بند کر دیا۔چوری چھپے کبھی بعد میں بھی حضرت مولوی صاحب سے خط و کتابت کرتے رہتے تھے۔چنانچہ میں نے ان کے بعض خط حضرت مولوی صاحب کے نام خود پڑھے ہیں انکا حضرت مولوی صاحب سے ایسا تعلق تھا کہ امر سنگھ آپ کو اپنے خطوں میں اپنے بزرگ کے طور پر مخاطب کیا کرتا تھا، پس ایک طرف مسلمانوں کی ہمدردی اور ان کی مظلومیت کے احساس کی وجہ سے اور دوسری طرف اس خواہش کی وجہ سے کہ کشمیر جس میں میرے دادا سالہا سال تک کام کرتے رہے ہیں اور پھر اس وجہ سے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے باپ نے میرے خسر سے قرآن کریم پڑھا ہے ان سب کی ترقی کے لئے کوشش کروں میں نے فورا اس معاملہ میں دلچسپی لینی شروع کردی"