تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 397
تاریخ احمدیت جلد ۵ 393 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدید دیکھا ہے میرے نزدیک وہ نہایت ہی معقول اور قلیل ترین مطالبات ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان میں اس مطالبہ کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے علاقہ میں انجمنیں قائم کرنے پر جو روک پیدا کی جاتی ہے اس کو بھی دور کیا جائے جہاں تک مجھے علم ہے یہی پونچھ کے علاقہ میں بھی روک ہوتی ہے اور اجازت کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جس طرح تحریر و تقریر کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا گیا ہے اسی طرح اجتماع کی مکمل آزادی کا بھی مطالبہ کیا جائے اور میرے نزدیک علاقہ کشمیر کے مسلمانوں کے زمیندارہ حقوق جو ہیں ان پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی ہونا چاہئے کشمیر کے مسلمانوں کا بیشتر حصہ زمیندار ہے لیکن وہ لوگ ایسے قیود میں جکڑے ہوئے ہیں کہ سراٹھانا ان کے لئے ناممکن ہے عام طور پر کشمیر کے علاقہ میں کسی نہ کسی بڑے زمیندار کے قبضہ میں جائدادیں ہوتی ہیں اور وہ لوگ انہیں تنگ کرتے رہتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دو چار مسلمان زمیندار بھی ہیں لیکن دو چار مسلمانوں کی وجہ سے کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کو غلام نہیں بنے رہنے دینا چاہئے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر ہمیں کشمیر رجموں کے مسلمانوں کی آزادی کا سوال حل کرنا مطلوب ہے تو اس کا وقت اس سے بہتر نہیں ہو سکتا۔ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے نتیجہ میں قدرتی طور پر انگلستان اپنے قدم مضبوط کرنے کے لئے ریاستوں کو آئندہ بہت زیادہ آزادی دینے پر آمادہ ہے اگر اس وقت کے آنے سے پہلے جموں اور کشمیر کے مسلمان آزاد نہ ہو گئے تو وہ بیرونی دباؤ جو جموں اور کشمیر ریاست پر آج ڈال سکتے ہیں کل نہیں ڈال سکیں گے پس میرے نزدیک اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک کانفرنس جلد سے جلد لاہور یا سیالکوٹ یا راولپنڈی میں منعقد کی جائے۔اس کانفرنس میں جموں اور کشمیر سے بھی نمائندے بلوائے جائیں اور پنجاب اور اگر ہو سکے تو ہندوستان کے دو سرے علاقوں کے مسلمان لیڈروں کو بھی بلایا جائے اس کانفرنس میں ہمیں پورے طور پر جموں اور کشمیر کے نمائندوں سے حالات سن کر آئندہ کے لئے ایک طریق عمل تجویز کر لینا چاہئے اور پھر ایک طرف حکومت ہند پر زور ڈالنا چاہئے وہ کشمیر کی ریاست کو مجبور کرے کہ مسلمانوں کو حقوق دیئے جائیں۔دوسری طرف مہاراجہ صاحب کشمیر و جموں کے سامنے پورے طور پر معاملہ کو کھول کر رکھ دینے کی کوشش کی جائے ماکہ جس حد تک ان کو غلط فہمی میں رکھا گیا ہے وہ غلط فہمی دور ہو جائے اور اگر ان دونوں کو ششوں سے کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر ایسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ جن کے نتیجہ میں مسلمانان جموں اور کشمیر وہ آزادی حاصل کر سکیں جو دوسرے علاقہ کے لوگوں کو حاصل ہے چونکہ ریاست ہندو ہے ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ ہم اپنے حقوق میں سے کچھ حصہ رئیس کے خاندان کے لئے چھوڑ دیں لیکن یہ کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ پچانوے فیصدی آبادی کو پانچ فیصدی بلکہ اس سے بھی کم حق دے