تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 385 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 385

تاریخ احمدیت جلد ۵ 381 31 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ خلیفہ عبدالرحیم صاحب کی اس جدوجہد کا نتیجہ یہ رونما ہوا۔کہ ہندوستان کے مشہور مدبر اور سیاست دان سرایلین بینرجی ریاست کشمیر میں دو تین سال تک وزیر خارجہ وسیاسیات رہنے کے بعد مستعفی ہو گئے اور استعفاء کے فورا بعد ایسوشی ایٹڈ پریس کے نمائندہ کو اپنے مشاہدہ اور تجربہ کی بناء پر مسلمانان کشمیر کے متعلق ایک اہم بیان دیا جو اخبار سیسمین (Statenman) کلکتہ نے حسب ذیل رائے کے ساتھ شائع کیا:- ہندو کانگریسی اخبارات جس طرح برطانوی راج کے خلاف محاذ جنگ قائم کئے ہوئے تھے اسی طرح آج کل انہوں نے مسلمانوں کے کشمیری اضطراب کے خلاف بھی ایک مستقل جہاد شروع کر رکھا ہے اور اس مسلم ایجیٹیشن کو ناقص بتا بتا کر اس کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک اس قدر کامیاب اور منظم ہے کہ قارئین کرام کو بخوبی معلوم ہو گا۔ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کی حالت جس قدر خراب ہے ان پر جس طرح حکومت کی جاتی ہے ان کے ساتھ غیر شریفانہ اور انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے اس کا اندازہ خود ریاست کے ایک اہلکار کی زبان سے سنئے۔اور غور کیجئے کہ یہاں کی حالت کس قدر نا گفته به اور کس قدر نا قابل برداشت ہو چکی ہے پریس کے نمائندہ سے ریاست کشمیر کے محکمہ خارجیہ سیاسیہ " کے سابق وزیر (۱۹۲۹ء) سرا یلین بینرجی نے اپنے عہدہ سے دست بردار ہونے کے بعد جو ایک دفعہ بیان دیا تھا اس وقت اس کا اعادہ ضرور مفید ہو گا یا د رہے کہ یہ بیان کسی تحریک کے سلسلہ میں نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان واقعات سے متاثر ہو کر دیا گیا ہے جن سے وہ اپنے عہد میں متاثر ہوئے اور جو انہوں نے اپنے عہد حکومت میں اپنی آنکھوں سے دیکھے اور آگاہی عوام کے لئے شائع کر دیا۔مسٹرا یلیین بینرجی نے جو واقعات بیان کئے تھے ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔«کشمیر کی ریاست میں تقریباً تمام مسلمانوں کی آبادی ہے لیکن اس قدر جاہل اس قدر سادہ لوح اور مظلوم و معصوم که حالت حد بیان سے باہر ہے افلاس بے انتہا بڑھا ہوا ہے اور حکومت کی بے اعتنائی اور جو ر اس قدر نا قابل برداشت ہیں کہ مجھے ان کی حالت دیکھ دیکھ کر رقت ہوتی ہے حکومت اور رعایا کے درمیان کوئی رابطہ محبت نہیں ہے وہ بے زبان مویشیوں کی طرح ہیں جو حاکم جس صورت سے چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہو تا حکومت کی انتظامی مشینری اس قدر خراب اور ناقص ہے کہ میں عرض نہیں کر سکتا۔اشد ضروری ہے کہ تمام انتظامی عملہ کو از سرنو تشکیل کیا جائے اور تمام نقائص فور اوور کر دئے جائیں۔لوگوں کو شکایتیں کرنے اور اپنی حالت حکام اعلیٰ تک