تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 384 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 384

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 380 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه یہ وہ نازک دور تھا جبکہ ڈوگرہ راج سے ٹکر لینے کا خیال و تصور بھی اہل کشمیر کو نہیں آسکتا تھا۔چنانچہ جناب چراغ حسن حسرت لکھتے ہیں۔نوجوانوں نے بڑے اشتیاق سے یہ واقعات سنے اور حیرت زدہ ہو کر چلا اٹھے کیا یہ ممکن ہے بڑھے ٹھڈوں نے جنھیں ظلم سہتے زیادہ عرصہ ہو ا تھا۔سرہلا کر کہا بالکل جھوٹ بادشاہوں سے کون لڑ سکتا ہے۔(کشمیر از حسرت صفحہ ۱۶۰) خلیفہ عبدالرحیم صاحب آف جموں) اس زمانہ میں ریاست کی کلیدی اسامیوں پر ڈوگروں اور کشمیری پنڈتوں کا قبضہ تھا (الا ماشاء کی خدمات اور بینرجی کا لرزہ خیز بیان اللہ اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانان کشمیر کو یہ بھی تلقین کی جارہی تھی کہ وہ ریاست کی ملازمت میں زیادہ سے زیادہ آگے آنے کی کوشش کریں اور جو مسلمان ان اسامیوں پر ہیں وہ مسلمانوں کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔حضرت خلیفہ نور الدین صاحب جمونی کے فرزند خلیفہ عبدالرحیم صاحب ان غیور افسروں میں سے تھے جنھوں نے دور ملازمت میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔تحریک آزادی کے سلسلہ میں آپ کی شاندار مساعی کا ذکر آئندہ بھی آئے گا مگر واقعاتی ترتیب کے لحاظ سے یہاں ہم ان کے اس کارنامے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ خاص طور پر انہوں نے ریاستی وزراء سرا یلیین بینرجی اور مسٹرو یکفیلڈ کے سامنے صحیح اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ کس طرح ۹۵ فیصدی مسلمان اکثریت بے انصافی اور جبرو تشدد کا شکار ہو رہی ہے۔چوہدری ظہور احمد صاحب ( آڈیٹر صد را انجمن احمدیہ پاکستان ) خلیفہ عبد الرحیم صاحب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔” خلیفہ عبدالرحیم صاحب (جو بعد میں ہوم سیکرٹری حکومت جموں وکشمیر بنے) انہی ریاستی افسروں میں سے ایک تھے جن کی قومی خدمات کو مسلمانان جموں وکشمیر کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ سرا یلین بینر جی اور مسٹرو یکفیلڈ ریاست کے وزراء میں شامل تھے اور مہاراجہ پر چھائے ہوئے تھے خلیفہ عبدالرحیم صاحب جو مسلمانوں کی حالت زار سے بخوبی واقف تھے اپنی قابلیت محنت اور دیانتداری کی وجہ سے اپنے بالا افسران یعنی وزراء کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام پیدا کر چکے تھے انہوں نے ان وزراء کے سامنے مردم شماری کے اعدادو شمار رکھے اور اس کے مقابل ملازمتوں میں ان کا تناسب بتایا جو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھا۔ہندو ساری ریاست پر چھائے ہوئے تھے تجارت پر تو کلیتہ ہندوؤں کا ہی قبضہ تھا۔پلیٹ فارم کی بھی کوئی آزادی نہ تھی۔انجمن بنانے کی ممانعت تھی مسلمانوں کے اوقاف پر ریاست کا قبضہ تھا بعض مساجد مال گوداموں کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں۔یہ ساری باتیں سر بینر جی اور مسٹرو یکفیلڈ کے نوٹس میں لائی گئیں۔