تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 386
تاریخ احمدیت جلد ۵ 382 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پہنچانے کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ہے اور حکومت ان کی طرف سے اس قدر استغناء برتی ہے کہ گویادہ ان سے کچھ فائدہ حاصل کرتی ہی نہیں تعلیم یافتہ طبقہ جو تمام تر کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ہے ان کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں۔اس لئے انہیں بھی ایک طرح سے مسلمانوں ہی کی طرح خراب وختہ سمجھنا چاہئے وہ کسی قسم کی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔اور مذہبی حلقوں میں ان کی حالت اچھی نہیں اس لئے وہ بھی بری حالت میں ہیں حکومت کی ملازمتوں میں ان کو بھی ترجیح نہیں دی جاتی وہاں بیرونی اصحاب کی خوب پرورش ہوتی ہے ریاست میں کوئی رائے عامہ نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبارات سرے سے ہیں ہی نہیں اور موجودہ دور تمدن میں کسی مقام پر اخبارات کا نہ ہونا جس قدر اندوہناک منظر دور جهالت و بربریت کا ثبوت پیش کر سکتا ہے وہ وہاں موجود ہے یعنی رائے عامہ کے فقدان سے یہاں کی حکومت کی پالیسی پر نکتہ چینی بالکل نہیں ہوتی۔۔۔کشمیر کی سیاسی فوقیت زیادہ تر قدرتی اور جغرافیائی محل وقوع کی بناء پر ہے کیونکہ قدرت نے اسے تین بڑی بڑی سلطنتوں کے مابین پیدا کیا ہے اور اس وجہ سے اسے جو فوقیت حاصل ہو سکتی ہے وہ ظاہر ہے لیکن ریاست نہ تو کبھی اپنے پورے مدارج پر پہنچے گی اور نہ اپنی ذمہ داریاں پہچانے گی جب تک کہ حکومت اور باشندوں کے در میان زیاده رابطه اتحاد اور زیادہ رشتہ الفت و مفاہمت قائم نہ ہو کشمیر کے دستکار جس قدر۔۔۔جفاکش مشہور تھے اب ان کی ہمت افزائی نہیں ہوتی اور اس وجہ سے ان کی حالت اس قدر با کل بہ انحطاط ہے کہ بیان سے باہر ہے حکومت ان کی سرپرستی اور امداد نہیں کرتی اس وجہ سے ان کی حالت روز بروز گرتی چلی جارہی ہے۔میسور کی حکومت اپنے صناعوں کی جتنی امداد و سر پرستی کرتی ہے وہ اس ریاست (کشمیر) کے لئے نمونہ ہے"۔' حکام ریاست کا منصوبہ اور یعقوب علی صاحب کی ایمانی جرأت سرا بلین کے کی اس بیان نے جہاں ہندوستان کے طول و عرض میں زبردست ہیجان برپا کر دیا وہاں حکومت جموں و کشمیر پر بھی اس مشہور مدبر کے الفاظ نے سراسیمگی اور گھبراہٹ طاری کر دی اور اس نے پہلے انجمن اسلامیہ جموں دکشمیر کی اسلامی انجمنوں سے اس کی تردید کرانے اور عامتہ المسلمین کی آواز دبانے کا منصوبہ سوچا جو ناکام ہو گیا جس کا سہرا ٹھیکیدار یعقوب علی صاحب احمدی (جموں) پر تھا۔جو ینگ منیز ایسوسی ایشن کے روح رواں تھے اس اہم واقعہ کی تفصیل شمالی ہند کے پر جوش اخبار "انقلاب" نے اپنی تین اشاعتوں میں شائع کی جس کے تین اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔" سمرا یلیین بینرجی کے خیالات سے جو قریباً تمام اخبارات میں چھپ چکے ہیں متاثر ہو کر حکام