تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 383 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 383

تاریخ احمدیت جلد ۵ 379 تحریک آزادی کشمیر او رجماعت احمدیه صاحب کام کر رہے تھے ادھر علاقہ جموں میں خواجہ صاحب کے دوش بدوش ٹھیکیدار یعقوب علی صاحب میاں فیض احمد صاحب اور ان کے رفقاء نے بھی یہ تحریک شروع کردی ٹھیکیدار صاحب انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ممبر تھے۔اور فیض احمد صاحب کا تعلق جماعت احمد یہ قادیان سے تھا۔مسلمان زمینداروں کی تنظیم کشمیر میں زمینوں کا مالک ریاست بھی جاتی تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کوئی زمیندار اپنی زمین پر کسی قسم کا مالکانہ تصرف نہیں کر سکتا تھا بلکہ ہر مالکانہ تصرف کے لئے اسے ریاست کی خاص اجازت حاصل کرنا پڑتی تھی گویا کشمیر میں زمیندار عملاً مزارعوں کی حیثیت رکھتے تھے وہ اپنی اراضی پر لگائے ہوئے درخت نہیں کاٹ سکتے تھے مکان نہیں تعمیر کر سکتے تھے اگر ریاست کو ان کی زمین کے لینے کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ فورا بے دخل کر دئیے جاتے اور محض کاشت کے حقوق کی بناء پر انہیں نہایت خفیف سا معارضہ ملتا۔ریاست کو یہ بھی قانوناً حق حاصل تھا کہ مسلمان زمینداروں پر غیر مسلم اشخاص کو لا کر مالک قرار دے چنانچہ کئی خالص مسلم رقبہ جات اسی طرح محض رسمی نذرانوں پر غیر مسلموں کی ملکیت قرار پاچکے تھے اور اس کے متعلق کسی مسلمان زمیندار کا عذر قابل شنوائی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اس طرح مسلمان زمینداروں کا بڑی بے دردی سے نگلا کاٹا جارہا تھا ظلم و ستم کی حد یہ تھی کہ ریاست کشمیر کو صرف نقدی میں ٹیکس وصول کرنے کی بجائے عملا جنس اور نقدی ہر دو صورتوں میں معاملہ وصول کرتی تھی گویا کشمیری زمیندار کو لگان کے ساتھ مالکانہ بھی ادا کر نا پڑتا تھا یعنی کچھ ٹیکس تو وہ ریاست کو بحیثیت حکومت دیتا تھا اور کچھ بحیثیت مالک جس کی عملی صورت اور بھی عجیب تھی اور وہ یہ کہ ریاست زمیندار سے پیداوار کا ایک معقول حصہ لگان سرکاری میں وصول کر لیتی اور اس کے ساتھ ہی وہ زمیندار کی پیداوار بھی خود اپنے مقرر کردہ نرخ پر خرید لیتی جس کے بعد ریاست یہ خرید شده جنس بازاری بھاؤ پر معقول منافع کے ساتھ پھر زمینیدار اور دوسری رعایا کے ہاتھ فروخت کر دیتی اس طرح ریاست در ہرا فائدہ اٹھاتی اور رعایا کو دوہرا نقصان ہوتا۔زمینداروں کی یہ حالت زار دیکھ کر خواجہ عبدالرحمن صاحب ڈار نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ہدایات کی روشنی میں زمینداروں کی تنظیم و اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور تھوڑے ہی عرصہ میں انہوں نے قانون و اخلاق کی پابندی کرتے ہوئے ریاست بھر کے مسلمان زمینداروں کی تنظیم کرلی۔اس پر حکام ریاست نے انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔حتی کہ پولیس نے ان کو ڈوگرہ مظالم کے خلاف احتجاج اور محض زمینداروں کو منظم کرنے کے جرم میں غنڈوں میں شامل کر لیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔