تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 381 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 381

تاریخ احمد سیست۔جلد ۵ 377 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ مزدور لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔اور دو سرے مزدوروں کو گور نر کشمیر کی موجودگی میں مسلح فوج نے اپنے نیزوں کا نشانہ بنایا۔اس واقعہ پر شاید ایک ماہ نہ گذرا ہو گا کہ ایک ہندو اخبار ”عام " لاہور کے ایک مضمون کی بناء پر کشمیری پنڈتوں کی ایک جماعت نے خانقاہ معلیٰ پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا۔اور جوتوں سمیت اندر جا کر اس کی بعض کھڑکیاں بھی تو ڑدیں چنددنوں کے بعد جب محرم آیا تو ریاست نے ذوالجناح اور ماتمی جلوس نکالنے پر عمد اپابندی لگادی بلکہ گورنر صاحب کشمیر ( جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی تھے) شیعہ اصحاب سے ذوالجناح بھی چھین لیا۔اس کے بعد ۱۴ / اکتوبر ۱۹۲۴ء کو وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ سیرو سیاحت کے لئے کشمیر آئے تو مسلمانان کشمیر کے نمائندوں نے اپنی سیاسی مذہبی اور معاشرتی شکایات کا محضر نامہ (میموریل) تیار کیا جس میں اعدادو شمار دے کر بتایا کہ ریاست کی کل آبادی کا ننانوے فیصدی حصہ ہندو ارکان حکومت کی جیبوں میں جاتا ہے اور صرف ایک فیصدی حصہ ۹۵ فیصدی مسلمان آبادی کو دیا جا رہا ہے۔یہ محضر نامه مسلمانان کشمیر کے نمائندوں نے لارڈ ریڈنگ (وائسرائے ہندوستان) کو پیش کیا جو انہوں نے دربار کشمیر میں بھیج دیا لارڈ ریڈنگ ۲۸/ اکتوبر ۱۹۲۴ء تک کشمیر میں رہے ان کے جانے کے بعد مہاراجہ پرتاپ سنگھ صاحب نے رائے بہادر کر تل جنگ سنگھ صاحب مشیر مال، چوہدری خوشی محمد صاحب ناظر اور مسٹر گلینسی (ممبر فائنینس و پولیس) پر مشتمل ایک کمیشن بٹھا دیا جس نے محضر نامہ پر دستخط کرنے والوں کے بیانات لینے شروع کئے بیانات دینے والے کمیشن کے ممبروں سے مرعوب نہ ہوئے کشمیر کی حکومت کے لئے اس قسم کی حق گوئی بالکل نئی بات تھی نتیجہ یہ ہوا ۱۵/ مارچ ۱۹۲۵ء کو مسلمانوں کے ان نمائندوں میں سے خواجہ سعد الدین صاحب شال رئیس سرینگر کے مکان پر ایک انسپکٹر پولیس اور دو سب انسپکٹر پولیس نے ڈیڑھ سو سپاہیوں کی جمعیت کے ساتھ دھاوا بول دیا۔اس وقت خواجہ صاحب کا اکلوتا بیٹا نمونیہ میں مبتلا تھا اور آپ اس کی تیمار داری میں مصروف تھے آپ نے صبرو شکر سے ریاست کے ظالمانہ احکام کی تعمیل کی۔اور پولیس پہلے بند گاڑی میں اور پھر موٹر میں بٹھا کر پنجاب کی سرحد تک چھوڑ گئی۔اسی طرح خواجہ حسن شاہ صاحب نقش بندی رئیس کی چار ہزار روپیہ سالانہ کی جاگیر میموریل پر دستخط کرنے کی پاداش میں ضبط کرلی گئی۔اور ان کے قابل فرزند خواجہ نورشاہ صاحب تحصیل دار خاص کا نہ صرف درجہ ترقی (وزیر وزارت) غصب کر کے ایک اور شخص کو دے دیا گیا بلکہ ان سے اس قسم کا سلوک روا رکھا گیا کہ پہلے وہ جبر ارخصت لینے پر مجبور کئے گئے اور پھر ان کے ایک مشورہ طلب عریضہ کو ناحق استعفیٰ بنا کر منظور کر لیا گیا۔حالانکہ ان کا مذکورہ بالا میموریل کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھا اسی طرح سید حسین شاہ صاحب ذیلدار جذل بل ( سرینگر) بھی اسی