تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 380 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 380

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 376 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه فصل سوم تحریک آزادی کا تیسرا دور (۱۳، ۱۳۸۲) حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا دوسراسفر کشمیر حضرت علیہ الی الثانی ایده الله تعال ۱۹۲۱ء میں (۲۵/ جون تا ۲۹/ ستمبر) دوباره کشمیر تشریف لے گئے اور جیسا کہ تحریک آزادی کشمیر کے ایک نہایت مخلص اور سرگرم کار کن چوہدری ظہور احمد صاحب (حال آڈیٹر صد رانجمن احمد یہ ربوہ) نے کشمیر کی کہانی میں بالتفصیل تحریر فرمایا ہے اس سفر میں حضور کو اہل کشمیر کے روح فرسا حالات دیکھ کر ان سے ہمدردی کی تڑپ اور گہری ہوگئی اور ریاستی باشندوں کے حالات کا بہت گہرا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔اور آپ نے اپنے متعلقین اور دوسرے افراد جماعت سے اس مظلومیت کا سیاق و سباق کا مواد فراہم کرنا شروع کر دیا۔اور پہلی فرصت میں مظلومین کشمیر کو باہمی اتحاد ، اتفاق ، تعلیم کی اشاعت اقتصادی حالت کی بہتری اور اسلامی احکام کی تعمیل اور رسم ورواج سے علیحدگی کی طرف توجہ دلائی۔مئوخر الذکر بات چونکہ دینی نقطہ نگاہ سے سب سے اہم تھی اس لئے حضور نے اس پر کشمیر میں خطبات جمعہ کے دوران بھی زور دیا اور فرمایا:- اگر کامیابی یا ترقی کرنا چاہتے ہو تو جہاں خدا کا حکم آوے اسے کبھی حقیر نہ سمجھو۔رسم ورواج کو جب تک خدا کے لئے چھوڑنے کو تیار نہ ہو گے تب تک نمازیں روزے اور دوسرے اعمال آپ کو مسلمان نہیں بنا سکتے۔جہاں نفس فرمانبرداری سے انکار کرتا ہے اسی موقعہ پر حقیقی فرمانبرداری کرنے کا نام اسلام ہے اگر کوئی ایسا فرمانبردار نہیں ہے اور رسم و رواج کو مقدم کرتا ہے تو اس کا اسلام اسلام نہیں ہے "۔۲۵ جولائی ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے کہ سرینگر کے کارخانہ ریشم ۱۹۲۴ء میں ڈوگرہ راج کے مظالم جو ان دوروں کو شکایت تھی کہ ان کو بہت کم مزدوری کے ملتی ہے اور جو کچھ ملتا ہے خود ہندو افسران اس میں سے رشوت جمع کر لیتے ہیں یہ الزام درست ثابت ہوا۔مگر ریاست یا تو افسر کو بچالیتی یا برائے نام سزا دے کر کسی اور پارک میں تبدیل کر دیتی تھی اس کھلی طرف داری پر مسلمان مزدوروں نے ہڑتال کر دی۔ریاستی حکام نے رات کے بارہ بجے مظلوم