تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 356
تاریخ احمدیت جلد ۵ 352 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ سلاطین کشمیر کے بعد اہل کشمیر کو خوشحال بنانے اور ملک کی علمی ، ثقافتی اور مادی ترقی و بہبود میں مغل بادشاہوں نے گہری دلچسپی لی ہے۔چنانچہ فرانسیسی سیاح ڈاکٹر بر نیئر جو حضرت اور نگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کے زمانہ میں اس بر صغیر میں سیر و سیاحت کر رہا تھا۔مسلم کشمیر کی نسبت لکھتا ہے۔دوسرے ممالک کی نسبت کشمیر میں علم و فضل کی فراوانی ہے۔ادبیات اور حکمت سے یہاں کے لوگ کافی واقف ہیں صنعت و حرفت میں بھی یہ کسی سے کم نہیں۔کشمیر جنت نظیر ہے سارا ملک سرسبز و شاداب اور سدابہار باغ کی طرح ہے۔۔۔اور کشمیری ہر طرح سے سکھی ہیں"۔پیٹرس جیر دس جهانگیری دور کے کشمیر کا حال مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کرتا ہے۔اکبر کا جانشین جہانگیر تھا۔جسے اپنی سلطنت میں سب سے زیادہ عزیز کشمیر تھا۔وہ کشمیر میں باغ لگانے والے کے نام سے مشہور ہے۔کشمیر میں اس کے لگائے ہوئے جو باغ اب تک مشہور ہیں۔وہ شالیمار باغ ، نسیم باغ اور نشاط باغ ہیں۔ہر ایک میں حیرت انگیز شہ نشین اور چبوترے بنے ہوئے ہیں جہاں فواروں سے ٹھنڈا پانی دھار باندھ کر نکلتا ہوا جھرنوں سے گر تا اور مرمرین ڈھلانوں پر جھلملاتا جاتا ہے۔وادی کے طول و عرض میں جو دیو زاد اور پر شوکت چنار نظر آتے ہیں وہ بھی جہانگیر نے لگائے تھے۔تصنیف راؤ بهادروی پی مینن بھارتی امور ریاست کے سابق سیکرٹری اپنی "The Integration of The Indian states" میں لکھتے ہیں۔دو سو سال تک کشمیر مغلوں کا گرمائی صدر مقام رہا۔مغلوں کے آثار و نقوش قلعہ ہری پربت شالیمار باغ نشاط باغ ، اچھابل اور ویری ناگ میں اب تک موجود ہیں۔چنار کے بلند و بالا و رخت جو ہر جگہ نظر آتے ہیں انہیں کی یاد گار ہیں۔