تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 355
تاریخ احمدیت جلد ۵ 351 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه کے مطابق با ئیس سال تک) کشمیر میں مصروف تبلیغ رہے۔پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ کشمیر میں میر ہمدانی کے آنے پر اس تیزی اور وسعت سے اسلام پھیل گیا۔کہ ملک میں چند لوگ مسلمان ہونے سے رہ گئے اور جوں جوں لوگ مسلمان ہوتے گئے اپنے مندروں کو مسجدیں بناتے گئے۔سلطان سکندر کے بعد ۱۴۱۷ ء میں سلطان علی شاہ اور ۱۴۲۳ء میں سلطان زین العابدین عرف بڑشاہ تخت نشین ہوا۔اس علم نواز انصاف پرور اور مساوات پسند مسلم فرمانروا کے زمانے میں کشمیر نے ہر لحاظ سے غیر معمولی ترقی کی اور اس کا وجود مسلمان اور ہندو بلکہ پوری رعایا کے لئے سایہ رحمت ثابت ہوا اور ملک کی کایا پلٹ گئی۔اس کے عہد حکومت میں ملک کشمیر علوم و فنون کا گہوارہ بن گیا۔اور کشمیر کی شہرت ہندوستان سے گزر کر بلخ بخارا، خراسان اور ایران تک جا پہنچی اور علماء و فضلا خود بخود اس کے دربار میں کھنچے چلے آئے اور یہیں زندگی بسر کرنے لگے۔ملک الشعراء ملا احمد کشمیری جیسے شاعر و مناظر اور ملا نادری جیسے مورخ اسی زمانے میں ہوئے ہیں۔سلطان زین العابدین کے زمانہ میں کشمیر شریعت اسلامیہ کی پابندی کے لئے خاص طور پر مشہور ہوا۔اور جس قدر علماء و مشائخ اس دور میں نظر آتے ہیں کسی بادشاہ کشمیر کے زمانے میں دکھائی نہیں دیتے۔چند بزرگوں کے نام یہ ہیں۔شیخ الاسلام مولانا کبیر، قاضی القضاة ملا جلال الدین حافظ بغدادی ، میر علی بخاری علامہ سید شمس الدین اندرابی ، سید حسین قمی رضوی با با حاجی ادهم ، سید محمد مدنی سید محمد عالی بلخی ، میر سید حسن میر سید حسین منطقی سید جان باز ولی بابا زین الدین بابا عثمان گنائی ، شیخ بہاء الدین گنج بخش ، شیخ نور الدین ولی میر سید محمد امین اویسی " سلطان زین العابدین (متوفی ۱۴۷۴ء) کے عہد تک جن مبلغین اسلام کا تذکرہ کیا جا چکا ہے ان کے علاوہ اور بہت سے بزرگ وقتا فوقتا کشمیر میں تبلیغ کے فرائض ادا کرتے رہے ہیں۔جن میں سے میر شمس الدین Y- عراقی، شیخ محمد حمزه مخدوم خواجہ طاہر سہروردی، شاہ فرید الدین قادری ، میر عبدالرشید بیهقی خواجہ محمد اعظم ، مولف " تاریخ اعظمی شیخ بهاء الدین گنج بخش ، شیخ نور الدین ولی ، مولانا محمد کمال (استاد حضرت مجد والف ثائی شاہ نعمت اللہ کشمیری خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔کشمیر میں اسلامی حکومت قریباً پانچ سو سال تک قائم رہی ۱۳۲۵ء سے ۱۳۴۴ء تک شاہان زمانہ بے استقلالی ۶۱۳۴۳ تا ۱۵۵۴ء سلاطین کشمیر - ۱۵۵۴ء سے ۱۵۸۶ء تک خاندان چک ۱۵۸۶۰ء سے ۱۷۵۲ء تک شاہان مغلیہ اور ۱۷۵۳ء سے ۱۸۱۹ء تک افغان بر سر اقتدار رہے اور آخری مسلمان بادشاہ شجاع الملک تھا۔اسلامی عهد حکومت کی مذہبی تاریخ پر روشنی ڈالنے کے بعد بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ مسلم