تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 357
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 353 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه فصل هشتم کشمیر سکھ عہد حکومت میں افسوس مغلیہ دور کی پر عظمت اور انمول وراثت کو بعد کے حکمرانوں نے حتی الوسع برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔مسلمانوں کے ستارہ عروج کے زوال پر عنان اقتدار ۱۸۱۹ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے ہاتھ میں آگئی۔مہاراجہ صاحب کے بعد ان کے جانشینوں نے مارچ ۱۸۴۶ء تک حکومت کی اس دور میں مسلمانوں کی رواداری کا بدلہ اس رنگ میں دیا گیا۔کہ ان کی مساجد اور قلعے مسمار کئے گئے اور جن عمارتوں کو دیکھ کر انسانی عقل حیرت میں پڑ جاتی تھی۔وہ اصطبلوں میں بدل دی گئیں اور وادی کشمیر میں اذان دینے کی سز ا زبان کاٹنا قرار دی گئی۔چنانچہ پیٹرس جیروس لکھتا ہے۔" حکومت کی مسلح فوجیں تمام تندرست مردوں کو پکڑ دھکڑ کر دور دراز علاقوں میں طویل عرصوں تک بطور قلی کام کرنے کے لئے بھیج دیتیں۔اکثر وہ کبھی واپس نہ آتے۔کھیتی باڑی کا کام بوڑھے مرد اور عورتیں ، جیسے بن پڑتا کرتیں۔نوجوان عورتوں نے خود کو برقعوں میں چھپا لیا۔اور لڑکوں کا وہی حشر ہوا۔جو صد ہا سال پہلے کو رنتھ میں ان کے بھائیوں کا ہوا تھا۔پھر سے ہزاروں لوگ کشمیر سے بھاگ گئے۔اب کی دفعہ بھاگنے والے مسلمان تھے " یورپین سیاح ولیم مور کر فٹ (جس نے ۱۸۲۴ء میں کشمیر کا سفر کیا تھا) لکھتا ہے۔سکھ کشمیریوں کو مویشیوں سے کسی طرح بہتر نہ سمجھتے تھے۔اگر کوئی سکھ کسی کشمیری کو قتل کر دے تو اس کی سزا سولہ سے ہیں روپے تک جرمانہ تھی۔جس میں سے چار روپیہ مقتول کے ورثاء کو دیے جاتے تھے اگر وہ ہندو ہو۔اور دو روپے دیئے جاتے تھے اگر وہ مسلمان ہو"۔فضل احمد صاحب صدیقی ایم۔اے مدیر ڈان اپنی کتاب "خونا بہ کثیر " صفحہ ۱۶ تا ۱۹ میں سکھ عبد حکومت کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں۔مسلمانان کشمیر پر سکھوں کی کرم فرمائیاں انتہائی شرمناک حد تک پہنچی تھیں۔اذان دینا ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔بیشتر مساجد اراضی نزول قرار دے دی گئی تھیں۔شاہ ہمدان جیسے جلیل القدر بزرگ کے خانقاہ کے انہدام کے احکام جاری ہو گئے تھے۔بر بنائے اس مفروضہ کہ ۱۲۰۰ سال پہلے اس خانقاہ کی