تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 354
تاریخ احمدیت ، جلد ۵ 350 احمدیہ تحریک آزادی کشمیر اور ع سلطان صدر الدین کی وفات کے بعد ریاستی نظم و نسق میں بد نظمی پیدا ہو گئی اور ۱۳۴۳ء میں حضرت شاہ میر سلطان شمس الدین کے نام سے تخت نشین ہوئے۔آپ نے بلا تفریق مذہب و ملت تمام رعایا سے مالیہ سرکاری دسویں حصہ کی بجائے پانچواں حصہ مقرر کر دیا۔ریاست میں بکرمی سمت موقوف کر کے نیا سنہ جاری کیا۔جس کی ابتداء راجہ رنچن (سلطان صدر الدین) کی تاجپوشی کے وقت سے ہوئی۔شاہان مغلیہ کے زمانے تک یہ سنہ کشمیری سنہ کے نام سے رائج رہا۔۱۳۴۷ء میں آپ دار فانی سے گزر گئے۔آپ کے زمانے میں اسلامی حکومت مستحکم بنیاد پر قائم ہو گئی۔سلطان جمشید کے عہد حکومت ۴۸- ۱۳۴۷ء میں بعض صاحب کرامات بزرگ ہوئے جن کا زہد و انتقا زبان زد خلائق تھا۔اور کرامات سے کشمیر میں اشاعت اسلام کی رفتار پہلے سے تیز ہو گئی۔۱۳۷۲ء میں یعنی سلطان شہاب الدین کی حکومت (۱۳۶۰ء تا ۱۳۷۸ء) کے آخر میں امیر کبیر حضرت سید علمی ہدائی پہلی بار ہمدان سے تشریف لائے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس تشریف لے گئے پھر ۱۳۷۹ء میں ( جبکہ سلطان قطب الدین جیسا عادل ، منصف اور رعایا پر دربادشاہ تخت نشین تھا۔سات سو مریدوں کے ہمراہ دوبارہ کشمیر تشریف لائے۔اور کشمیر کے طول و عرض میں تبلیغی نظام قائم کر دیا۔مساجد تعمیر کرائیں ،مدارس قائم کئے اور ہر شہر میں معلمین و مبلغین کی ایک جماعت متعین فرمائی ۷۸۳ ھ بمطابق ۱۳۷۲ء میں آپ بہت سے فقراء اور صوفیاء کو لے کر گلگت اور لداخ تشریف لے گئے اور تمام علاقے میں دورے کر کے تبلیغ اسلام فرماتے رہے۔جن مبلغین اور داعیان اسلام نے آپ کی زیر نگرانی کشمیر میں تبلیغی فرائض انجام دیئے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔میر حسین سمنائی سید جمال الدین سید کمال الدین سید جمال الدین علائی سید فیروز سید محمد کاظم ملقب به سید قاضی سید رکن الدین سید فخر الدین شیخ محمد قریشی سید مراد ، سید عزیز اللہ ، شیخ احمد قریشی ، حاجی محمد شیخ سلیمان۔ان بزرگوں نے حضرت شاہ ہمدان کے زیر ہدایت کشمیر کے مختلف مقامات کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ، خانقاہیں بنا ئیں جہاں مبلغین تیار ہوتے تھے۔مساجد اور مدارس تعمیر کئے اور لنگر خانے جاری کئے۔ان مبلغین کے علاوہ شاہ ہمدان کے بھانجے سید احمد اندرابی نے بھی کشمیر میں تبلیغ کی۔اندرابیہ کے بعض مشہور مبلغوں کے نام یہ ہیں۔سید محمد اندرابی ،سید محمد ابراہیم اندرابی، سید شمس الدین سید محمد میرک اندرابی، سید محمد طامبر، سیدمحمد افضل ، قطب العالم ،سید محمد عنایت اللہ اندرابی ، حاجی سید عتیق الله شهید اندرابی ، سید کمال الدین اندرابی۔۱۳۹۴ ء میں یعنی سلطان سکندر کی تخت نشینی کے پہلے سال حضرت امیر کبیر علی ہدائی کے نوجوان فرزند سید میر محمد ہمدانی معمر ۲۲ سال تین سور نقاء سمیت وارد کشمیر ہوئے اور بارہ سال (ایک روایت ۹۳