تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 353 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 353

تاریخ احمدیت جلد ۵ حصہ دوم، پہلا باب (فصل ہفتم) 349 کشمیر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کشمیر میں پہلا مسلمان جو اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک (۷۰۵ ۶ تا ۷۱۵ء) کے زمانے میں پہنچا۔جهم بن سامہ شامی تھا جو فاتح محمد بن قاسم کے سندھ پر حملہ (۶۷۱۲ تا ۷۱۵) کے دوران راجہ داہر کے بیٹے جے سیہ (یا جے سنگھ) کے ہمراہ کشمیر میں آیا۔کشمیر کے حکمران راجہ نے جہم بن سامہ کی بہت قدرو منزلت کی اور اس نے وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔چنانچہ شروع ساتویں صدی ہجری کی مستند کتاب " چچ نامہ " میں یہ ذکر موجود ہے۔۷ ۷۱ ء اور ۷۲۰ ء کے وسطی زمانے میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے سلیط بن عبد اللہ کو تبت اور کشمیر میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا( تاریخ یعقوبی جلد ۲ صفحہ ۲۶۲) سلیط بن عبد اللہ کی آمد کے قریباً چھ سو سال تک یہاں تبلیغ اسلام کی کسی نمایاں جدوجہد کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔البتہ دسویں صدی عیسوی میں ایک مسلمان عرب سیاح ابو دلف سعر بن ململ بغداد سے ترکستان چین کابل تبت سے ہوتا ہوا کشمیر میں بھی آیا تھا۔مگر اس کا سفرنامہ ہمارے سامنے نہیں ہے۔AC کشمیر کے حالات نے چودھویں صدی عیسوی کے آغاز میں یکا یک پلٹا کھایا اور بعض با کمال مسلمان بزرگوں کے روحانی اثر اور بے نفس تبلیغ کے ذریعہ سے پوری ریاست اسلامی نور سے منور ہونے لگی۔یہ روحانی انقلاب خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے ہوا۔جس کی بظاہر یہ وجہ ہوئی کہ کشمیر کے راجہ ر پنچن کو دو مبلغین اسلام حضرت شاہ میر اور حضرت بلال شاہ عرف حضرت بلبل شاہ نے یکے بعد دیگرے تبلیغ کی اور راجہ صاحب ۱۳۲۷ ء میں مع اہل و عیال حضرت بلبل شاہ کے دست حق پرست پر مشرف باسلام ہو گئے۔اور ملک صدر الدین کے نام سے یاد کئے جانے لگے۔راجہ کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد سرزمین کشمیر اشاعت اسلام کا مرکز بن گئی۔اور ہر طرف اسلام کا غلغلہ بلند ہونے لگا۔راجہ رنچن نے جن کا اسلامی نام صدر الدین قرار پایا تھا ۲ سال ۷ ماہ حکمران رہنے کے بعد ۱۳۲۷ء میں وفات پائی۔صدر الدین بادشاہ اپنے عہد حکومت میں اشاعت اسلام کے لئے ہمہ تن کو شاں رہا۔