تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 346 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 346

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 342 تحریک آزادی کشمیر ادر جماعت احمدیہ علاقوں میں جانے کے لئے سوچ رہا تھا جہاں یہو د جلا وطنی کے بعد بس گئے تھے۔امریکن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر البرٹ ہیما اپنی کتاب "Ancient History"" تاریخ قدیم" میں انجیل کے اس بیان پر لکھتے ہیں۔" ایک دن جب حضرت مسیح ناصری ایک پر جوش و عظ فرما رہے تھے اس وعظ میں آپ نے اپنی روانگی کا ذکر کیا۔تو کچھ لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ کیا یہ بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل میں جاکر تبلیغ کا ارادہ رکھتے ہیں"۔(صفحہ ۳۸) حدیث نبوی میں آتا ہے کہ " اوحی الله تعالى الى عیسى ان يا عيسى انتقل من مكان اللى مكان لئلا تعرف فتونی" یعنی اللہ تعالٰی نے عیسی علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ اے عیسی ایک مقام سے دو سرے مقام کی طرف چلتے رہو تا ایسا نہ ہو کہ تم پہچانے جاؤ اور تمہیں تکلیف دی جائے۔اس فرمان خداوندی کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام یروشلم سے روانہ ہو کر پہلے دمشق تشریف لے گئے جہاں مقدسین دمشق یروشلم کے یہودی چرچ سے الگ ہو کر آبسے تھے۔ان لوگوں نے جو آپ کے لئے چشم براہ تھے۔نہ صرف آپ کو پناہ دی بلکہ خود بھی آپ کی پناہ میں آگئے یعنی حلقہ بگوش عیسائیت ہونے لگے۔یروشلم کے کاہن اعظم کو جب یہ پتہ لگا کہ حضرت مسیح دمشق میں پناہ گزین ہیں تو اس نے پولوس کو ان کی گرفتاری کے لئے مسلح دستہ دے کر دمشق کی طرف بھیجا۔لیکن وہ اپنے ارادوں میں ناکام رہا۔ان واقعات کی تفصیل رابرٹ گریور اور جو شوعا پوڈرو کی تصنیف ” یسوع روم میں " - (Jesus in Rome) میں موجود ہے۔اس حقیقت کی مزید تائید وادی قمران سے بر آمد ہونے والے صحائف سے بھی ہوتی ہے۔دمشق سے آپ مختلف مقامات کی سیرو سیاحت کرتے جن میں (روم بھی بتایا جاتا ہے) نصیبین کے رستہ افغانستان سے ہوتے ہوئے شمالی ہند میں داخل ہوئے (غالباً اسی زمانے میں یا اس کے کچھ مدت بعد آپ لیہ لاسہ گلگت ، مس ، نیپال، بنارس ، پنجاب وغیرہ میں بھی تشریف لے گئے ) اور بالآخر کشمیر میں جاگزین ہو گئے۔جو " ا وينهما الى ربوة ذات قرار و معين " کے قرآنی الفاظ کی عملی تعبیر تھی۔اس وقت راجہ اکھ کا بیٹا گو پانند (گو پاوت (دم) حکمران تھا۔یہ ۷۸ ء کا واقعہ ہے جبکہ لوگک سن ۳۱۵۴۔تھا اسی 101 سال آپ کی ملاقات سری نگر کے قریب وین مقام پر ہندوستان کے مشہور راجہ شالبا ہن سے ہوئی۔1 حضرت مسیح نے یہاں کھلے طور پر اعلان نبوت فرمایا اور اہل کشمیر کثرت سے آپ کی دعوت قبول کرنے لگے۔حضرت مسیح علیہ السلام موسوی شریعت کے تابع نبی تھے۔جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے۔یہ نہ