تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 347 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 347

ریخ احمد بیت - جلد ۵ 343 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں"۔موسوی شریعت کی نشر و اشاعت کے فریضہ کی بجا آوری کے ساتھ ہی آپ کی آمد کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ آپ موعود آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ا کے ظہور کی بشارت سنائیں۔اور یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے الہامات کو انجیل ہی کا نام دیا گیا جس کے لغوی معنی ہی خوشخبری کے ہیں۔چنانچہ آپ نے اپنے اس فرض منصبی کی تکمیل فرمائی اور اہل کشمیر کو اسلام اور آنحضرت ا کے ظہور کی خبردی اور ان کو آنحضرت ا اور اسلام کے استقبال کے لئے تیار کرتے رہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس ملک میں آکر اکثر بدھ مت میں داخل ہو گئے تھے۔سو حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے پر ان میں سے اکثر راہ راست پر آگئے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گوتم بدھ نے ایک اور آنے والے بدھ کی نسبت جس کا نام اس نے بگو امتیا ( یعنی مسیحا) رکھا تھا پیشگوئی کی تھی اور کہا " میالا کھوں مریدوں کا پیشوا ہو گا۔جیسا کہ میں اب سینکڑوں کا ہوں"۔(لگا تی سنتا بحوالہ کتاب اولدن برگ صفحه ۱۴۴) گو تم بدھ نے یہ بھی بتایا تھا کہ پانچویں صدی تک اس کے مذہب کا زوال ہو جائے گا تب تیا اس ملک میں دوبارہ میری اخلاقی تعلیموں کو قائم کرے گا۔چنانچہ کشمیر میں حضرت مسیح کی آمد گو تم بدھ کی پیدائش سے پانچ سو سال کے بعد ہی ہوئی۔اور بدھ کے پیرو پروانہ وار آپ کے گرد جمع ہوتے گئے۔غرض اس ملک میں حضرت مسیح کو بڑی وجاہت حاصل ہوئی۔حتی کہ راجہ کا ایک مرید "سندھی متی " نامی آپ کی زندگی میں لاولد راجہ جے اندر کے بعد تخت نشین بھی ہوا۔چنانچہ انیسویں صدی کے آخر میں ایک سکہ پنجاب سے بر آمد ہو ا جس پر پالی زباں میں حضرت عیسی کا نام درج تھا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کشمیر میں آکر شاہانہ عزت پائی غالبا یہ سکہ ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہو گا جو حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔کتاب " اکمال الدین و اتمام النعمت" سے جو شیعوں کی معتبر کتاب ہے اور ہزار برس قبل تصنیف ہوئی۔ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کشمیر آنحضرت ﷺ کی آمد کے صدیوں سے منتظر چلے آرہے تھے اور ان کی کتابوں میں حضور کی پیشگوئی موجود تھی۔اکمال الدین " میں مزید لکھا ہے۔”حضرت یوز آصف (یسوع مسیح علیہ السلام - ناقل) نے کشمیر میں آخری وقت اپنا خلیفہ مقرر کیا جس کا نام بابد تھا۔اور اسے وصیت فرمائی کہ میرے بعد عبادت کا پابند رہنا، نماز پڑھتے رہنا، سچائی سے منہ نہ پھیرنا۔پھر آپ نے اپنے اوپر ایک قبر بنائے جانے کا ارشاد فرمایا