تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 345 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 345

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 341 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مشابہ ہے۔اور اب تک یروشلم میں موجود ہے) آپ کے جسم کو مختلف مقوی ادویہ اور بوٹیوں کا بخور دیا گیا۔ایک بڑا پتھر رکھ دیا گیا۔رات کے آخری حصہ میں تیز آندھی اور زلزلہ سے چٹانیں ہلنے اور شق ہونے لگیں۔اس وقت حضرت مسیح کا ایک معتقد سفید لباس میں ملبوس قبر تک پہنچا سردار کاہن کے پہرہ دار جو زلزلہ اور آندھی سے پہلے ہی خوفزدہ تھے اس شخص کو دیکھتے ہی دہشت زدہ ہو کر بھاگ گئے اور شہر میں جا کر افواہ پھیلا دی کہ ایک فرشتہ نے نمار سے پتھر ہٹا کر اسے کھول لیا ہے۔واقعہ صلیب پر تیس گھنٹے گزرنے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کو بے ہوشی سے افاقہ ہو نا شروع ہوا۔اور جب آپ کو ساری سرگزشت بتائی گئی تو آپ بہت متعجب ہوئے اور خدا تعالیٰ کی حمد کرنے لگے۔حکیم نقود یمس کے مشورہ پر آپ نے کھجور میں اور روٹی شہد کے ساتھ کھائی اور آپ میں اتنی قوت آگئی کہ آپ خود اٹھ کر بیٹھ سکیں۔اس مرحلہ پر زیادہ دیر تک حضرت مسیح کو اس قبری میں رہنے دینا بڑا مخدوش و خطرناک امر تھا اس لئے آپ کو اس قبر سے ایک قریبی مکان میں منتقل کر دیا گیا۔چند روز کے بعد آپ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے تو آپ نے اپنے شاگردوں کو تبلیغ کے متعلق فرمائیں۔اور دور دراز مقام کے سفر پر روانگی سے پیشتر ان سے فرمایا کہ " میں نہیں بتا سکتا۔کہ اب کہاں جاؤں گا۔کیونکہ میں اس امر کو مخفی رکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور میں سفر بھی تنہا ہی کروں گا۔اور جب آپ یروشلم کے قریب کوہ زیتون پر حواریوں سے جدا ہونے لگے۔تو پہاڑ پر سخت کر چھائی ہوئی تھی۔حواریوں نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیکے تو ان کے چہرے زمین کی طرف جھکے ہوئے تھے۔اس حالت میں آپ اٹھے اور جلدی جلدی دھند اور غبار میں آگے روانہ ہو گئے لیکن شہر میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ یسوع بادلوں میں سے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں مگر یہ خبر آپ کے ان حواریوں میں سے کسی نے مشہور نہیں کی تھی جو آپ کی روانگی کے وقت موجود تھے اور جن کے گھٹنے ٹیکنے کی حالت میں آپ آگے بڑھ گئے تھے۔بلکہ یہ خبر ان لوگوں نے مشہور کی تھی جو آپ کی روانگی کے وقت موجود نہیں تھے۔یہ واقعہ جو بہت اختصار سے لکھا گیا ہے۔واقعہ صلیب کے ایک معینی شاہد نے اپنے مفصل مکتوب میں پوری شرح و بسط سے درج کیا ہے۔گو حضرت مسیح علیہ السلام نے یروشلم سے روانگی کے وقت مصلح اپنے سفر کی نسبت کچھ نہیں بتایا تھا مگر اناجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود پہلے سے یہی سمجھتے تھے کہ آپ کا ارادہ بنی اسرائیل کے ان گمشدہ قبائل تک پیغام حق پہنچانے کا ہے چنانچہ یو حنا ۳۳-۷/۳۶ (اتصور ائزڈ ورشن) میں لکھا ہے۔” یہودیوں نے آپس میں کہا کہ یہ کہاں جائے گا کہ ہم اسے نہ پائیں گے۔کیا ان کے پاس جائے گا جو غیر قوموں میں پراگندہ ہیں۔ان آیات کی شرح میں پیکس تفسیر بائیبل میں لکھا ہے۔شاید مسیح ان