تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 320 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 320

تاریخ احمدیت جلده 316 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال پر تو کل کرتے ہوئے ہم سب تیار بیٹھے تھے کہ اللہ تعالی کی راہ میںجو پیش آئے ہم اسے برداشت کریں گے۔مخالف ہجوم میں لاٹھی تو قریباً ہر دیہاتی کے ہاتھ میں تھی ، بہت سے لوگوں کے پاس کلہا ڑیاں بھی تھیں۔غیر احمدی مولوی صاحبان نے ہجوم کے ساتھ ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور ایک مولوی صاحب نے کھڑے کھڑے مجھ سے یوں خطاب کیا کہ آپ لوگ مناظرہ کرنا نہیں چاہتے ؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں چاہتے ہم تو مناظرہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔یہ کتابوں کے ٹرنک کس لئے ہیں ؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا ہم پہلے مرزا صاحب کی صداقت پر مناظرہ کریں گے۔میں نے کہا کہ ہمیں منظور ہے ابھی مناظرہ شروع ہو جاتا ہے میرے دل میں آیا کہ چلو پہلی تقریر میں پیغام حق تو پہنچا دیا جائے گا بعد میں تو یہ لوگ اغلبا فساد برپا کر دیں گے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ پہلی تقریر ہم کریں گے۔میں نے کہا کہ اصول کے مطابق پہلی تقریر مدعی کی ہوتی ہے۔ہم صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدعی ہیں اس لئے پہلی تقریر ہماری ہوگی۔اس مرحلہ پر ہجوم میں شور اٹھا اور اشتعال انگیز نعرہ کے ساتھ ایک دیہاتی لاٹھی لے کر میرے سر پر مارنے کے لئے آگے بڑھا۔میرے ساتھ محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب کھڑے تھے انہوں نے لاٹھی کو دیکھ لیا اور آگے بڑھ کر روکنا چاہا مگر وہ لاٹھی ان کے ماتھے پر لگی۔خون زور سے بہنے لگا اور ہنگامہ کی صورت پیدا ہو گئی۔اس موقعہ پر اللہ تعالی کا عجیب نشان ظاہر ہوا۔بنگلہ کے ایک غیر احمدی سید نے جب یہ دیکھا کہ قریبی گاؤں کے ایک گوجر کی لاٹھی سے بھگہ کے سید عبدالرحیم شاہ زخمی ہو گئے ہیں تو اس نے شور مچا دیا کہ اے بنگلہ کے لوگو! تمہارے سید کو فلاں گاؤں کے گوجر مار گئے ہیں۔یہ آواز بلند ہوئی تھی کہ سارا ریلہ ان گوجروں کی طرف ہو گیا۔ایک لمحہ کے اندراندریوں ہوا کہ وہ لوگ جو احمدیوں کو قتل کرنے کے لئے آئے تھے بھاگتے نظر آئے۔وہ ایک دوسرے کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ہونگہ والوں نے سید عبدالرحیم شاہ صاحب کو لاٹھی مارنے والے شخص کو نیچے نالہ میں قریباً دو اڑھائی فرلانگ کے فاصلہ پر جا پکڑا اور خوب ماراحتی کہ مشہور ہو گیا کہ شاید وہ مر گیا حالانکہ مرا نہیں تھا۔ہم اس میدان میں کھڑے قدرت خداوندی کا نظارہ دیکھ رہے تھے۔سب مولوی میدان سے بھاگ چکے تھے صرف احمد ی ہی اس جگہ موجود تھے۔اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید کا یہ عجیب واقعہ تھا۔میری طبیعت پر سید عبدالرحیم شاہ صاحب کے میری جگہ لاٹھی اپنے سر پر لینے کا بڑا اثر تھا اور آج تک قائم ہے اس کے بعد میں جب فلسطین گیا تب بھی اس واقعہ کی وجہ سے ان سے سلسلہ خط و کتابت جاری رہا۔