تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 319
تاریخ احمدیت جلد ۵ 315 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال جنت میں داخل نہیں ہوئے؟ مولوی صاحب نے کہہ دیا کہ ہاں ابھی تک رسول کریم ﷺ بھی جنت میں داخل نہیں ہوئے میں نے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر پر زور لہجہ میں کہا میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس نے یہ قرآن مجید نازل کیا ہے کہ ہم احمدیوں کے عقیدہ کے رو سے رسول اکرم ای جنت کے بلند ترین مقام میں داخل ہیں۔اس قسم کے بعد میں نے کہا کہ بھائیو! ایک طرف مولوی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے جو ابھی آپ نے مولوی عبد الحنان صاحب کے منہ سے سنا ہے اور ایک طرف ہمارا عقیدہ ہے جو میں نے ابھی حلفا بیان کیا ہے۔اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ رسول کریم ای کی عزت و عظمت کو کون مانتا ہے ؟ شروع مناظرہ میں ہی اس واقعہ سے سامعین پر بڑا گہرا اثر ہوا۔اس مناظرہ اور دیگر مناظرات میں بھی اللہ تعالی کی خاص تائید شامل حال رہی اور اس پہاڑی علاقہ میں احمدیت کا خوب چرچا ہوا۔فالحمد الله على ذلك۔بالا کوٹ کے بعد بھنگہ میں مناظرہ مقرر تھا۔یہ مناظرہ جمعہ کے روز ہونے والا تھا۔مقام مناظرہ ایک کھلی جگہ گاؤں سے کچھ فاصلہ پر عین اس سڑک پر واقع تھا جو مانسہرہ سے بالا کوٹ کو جاتی ہے۔مناظرہ کا وقت نماز جمعہ کے بعد مقرر ہوا۔ہم نے اسی جگہ پر نماز جمعہ ادا کی۔احمدیوں کی تعداد تمہیں چالیس ہو گی۔غیر احمدی جم غفیر کی صورت میں نیچے وادی میں پانی کے نالہ کے پاس نماز ادا کرنے کے لئے گئے۔خطبہ جمعہ میں مولوی غلام غوث صاحب نے عوام کو سخت اشتعال دلایا۔سامعین میں احمدیوں کے بعض رشتہ دار اور ہمد رد بھی تھے۔انہوں نے وہاں سے جلد آکر اپنے احمدی رشتہ داروں کو بتایا کہ مناظرہ وغیرہ تو ہو گا نہیں فساد اور کشت و خون ہو گا بہتر ہے کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔ایک کے بعد دوسرے دوست نے آکر یہی ترغیب دی۔جماعت احمدیہ بنگلہ کے صدر محترم سید عبد الرحیم شاہ صاحب کو دوستوں نے اس طرف توجہ دلائی۔انہوں نے مجھے حالات سے اطلاع دی۔میں نے کہا کہ جانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔جب غیر احمدی مولوی ہجوم کو لے کر مقام مناظرہ کی طرف آرہے تھے تو ان کے اطوار صاف بتا رہے تھے کہ وہ لوگ مناظرہ کے لئے نہیں بلکہ مقابلہ کے لئے آرہے ہیں۔محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب نے خطرہ کو بھانپ کر پھر توجہ دلائی میں نے پھر وہی جواب دیا۔تیسری مرتبہ ان کے کہنے پر بھی میرا ہی جواب تھا۔ہاں ہم نے اتنی احتیاط ضرور کر لی تھی کہ مناظرہ کی کتب جو پہلے پھیلا کر میز پر رکھی ہوئی تھیں انہیں محفوظ کر لیا تھا۔اس وقت موت یقینی نظر آرہی تھی۔میرے ہاتھ میں اس وقت بھیرہ کی بنی ہوئی بید کی خوبصورت چھڑی تھی جو مجھے اپنے بزرگوار حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بو تالوی کی طرف سے میری شادی کے موقعہ پر ملی تھی۔میرے دل میں اس وقت یہ حسرت تھی کہ دفاع کا کوئی انتظام نہیں تاہم اللہ تعالٰی