تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 298
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 294 ت ثانیہ کا اٹھارہواں سال اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپیٹتی جارہی ہیں۔۔۔۔اور یہ انتہا درجہ کی ناشکری اور بے قدری ہوگی۔اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طرز تحریر کو اس کے مطابق نہ بنا ئیں"۔نیز فرمایا۔پس میں اپنی جماعت کے مضمون نگاروں اور مصنفوں سے کہتا ہوں کسی کی فتح کی علامت یہ ہے کہ اس کا نقش دنیا میں قائم ہو جائے۔پس جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نقش قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے آپ کے اخلاق کو قائم کرنا اس کے ذمہ ہے آپ کے دلائل کو قائم رکھنا ہمارے ذمہ ہے آپ کی قوت قدسیہ اور قوت اعجاز کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے آپ کے نظام کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے وہاں آپ کے طرز تحریر کو قائم رکھنا بھی جماعت کے ذمہ ہے"۔اس ضمن میں حضور نے اپنا تجربہ یہ بتایا کہ۔میں نے ہمیشہ یہ قاعدہ رکھا ہے۔خصوصاً شروع میں جب مضمون لکھا کرتا تھا۔پہلا مضمون جو میں نے تشعیذ میں لکھا وہ لکھنے سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو پڑھا تا اس رنگ میں لکھ سکوں۔اور آپ کی وفات کے بعد جو کتاب میں نے لکھی اس سے پہلے آپ کی تحریروں کو پڑھا۔اور میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے میری تحریر میں ایسی برکت پیدا ہوئی کہ ادیبوں سے بھی میرا مقابلہ ہوا۔اور اپنی قوت ادبیہ کے باوجود انہیں نیچا دیکھنا پڑا " AF