تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 299 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 299

تاریخ احمد ید جلده چو تھا اب (فصل پنجم) 295 خلافت عثمانیہ کا اخار ہواں سال سیلیون یا لنکا (CEYLON) کی سرزمین کو دنیا کی قدیم مذہبی تاریخ میں دار التبلیغ سیلون کا قیام بڑی اہمیت حاصل ہے۔چنانچہ " قصص الانبیاء " وغیرہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام جنت (ارضی) سے نکلنے کے بعد ہندوستان کے مشہور جنوبی جزیرہ لنگاری میں اقامت پذیر ہو گئے۔لنکا میں ایک پہاڑ کی چوٹی کا نام ADAM, PEAK یعنی آدم کی چوٹی ہے۔جہاں سیلونی ہر سال عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں۔سبحہ المرجان میں جناب سید غلام علی واسطی آزاد بلگرامی نے اس طرح کی کئی روایات جمع کی ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ یہاں حضرت آدم اپنے ساتھ حجر اسود بھی لائے تھے۔ان بیانات کی واقعاتی حیثیت خواہ کیسی ہی مخدوش وسقیم کیوں نہ ہو۔مگر مورخین اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ عرب اور ہندوستان کے درمیان ازمنہ قدیم سے جو تجارتی تعلقات قائم تھے اور جو دونوں علاقوں بلکہ تمام دنیا کی تاریخ پر اثر انداز ہوئے۔لنکا کے ساحلی علاقہ نے اس میں ایک مرکزی کردار ادا کیا ہے۔جب عرب نور اسلام کی روشنی سے منور ہو ا تو مسلمان ملاحوں اور تاجروں نے اپنے پیشروؤں کا کام برقرار رکھا۔اور اپنی کشتیاں اور جہاز لے کر عرب سے لنکا اور ہندوستان کے ساحل پر آنے لگے۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں احمدیت کا پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ مبارک ہی میں لٹریچر کے ذریعہ سے لنکا پہنچا۔نیک اور سعید طبع لوگ اس سے متاثر ہوئے یہاں تک کہ حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے ماریشس تشریف لے جاتے ہوئے ۱۴ / مارچ ۱۹۱۵ء کو سیلون میں پہنچے اور آپ نے یہاں تین مہینے قیام فرمایا۔اور اس مختصری مدت میں ایک مخلص اور فعال جماعت پیدا کر لی۔۸۵ AM حضرت صوفی صاحب کے ماریشس جانے کے کچھ مدت بعد مولوی ابراہیم صاحب مالا باری مقامی مبلغ مقرر کئے گئے۔مقامی جماعت نے 1917 ء میں ایک رسالہ Message ( پیغام) اور انگریزی میں اور ایک رسالہ تھوون Thoothan) تامل زبان میں جاری کیا۔جو تبلیغ کا بہترین ذریعہ تھے۔قیام جماعت کے سولہ سال بعد ستمبر ۱۹۳۱ء میں کولمبو میں باقاعدہ دار التبلیغ قائم کیا گیا جس کے پہلے مرکزی مبلغ مولوی عبد اللہ صاحب مالا باری مقرر ہوئے۔آپ کے تقرر سے کچھ عرصہ قبل سیلون کے مذکورہ بالا دونوں