تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 297
293 خلافت عثمانیہ کا اٹھارہواں سال حضور نے اس کے جواب میں ۱۸/ جولائی ۱۹۳۱ء کو مفصل طور پر ان کے سامنے قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنا موقف ثابت کر دکھایا۔اور للکارا کہ وہ اس بحث کو ختم کرتے ہوئے مباہلہ مسنونہ کے لئے تیار ہو جائیں تاکہ میرے نمائندے ان کے نمائندوں سے مل کر مباہلہ کی تاریخ اور مقام کا تصفیہ کر لیں۔احمدی بڑی بے تابی سے مباہلہ کے انعقاد کا انتظار کر رہے ہیں۔لیکن سید صاحب اپنے بلند بانگ دعاوی کے باوجود اپنی ہٹ پر قائم رہے اور اپنے موقف کو درست قرار دینے کے لئے ایک اشتہار دیا۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کے دلائل کی دھجیاں بکھیر دیں اور تیسری بار ان کو پھر دعوت دی کہ ” ایسے اعلیٰ موقع کو ہاتھ سے نہ دیں اور اپنے مریدوں کو اس ثواب کے موقع سے محروم نہ کریں۔آخر ہماری جماعت کے لوگ بھی تو شوق سے اس مباہلہ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں میں نہیں سمجھتا کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے انہیں فاذهب انت وربك فقاتلا انا مهنا قاعدون کہہ کر ان سے الگ ہو جائیں "۔مگر ”امیر جماعت اہلحدیث پر ان غیرت دلانے والے الفاظ کا بھی کچھ اثر نہ ہوا اور آخر دم تک انہیں اپنی جماعت کو لے کر میدان مباہلہ میں آنے کی جرات نہ ہو سکی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت مسیح موعود کی طرز تحریر اختیار کرنے کی تحریک ایدہ اللہ تعالیٰ نے 10/ جولائی ۱۹۳۱ء کو جماعت کے مصنفوں اخبار نویسوں اور مضمون نگاروں کو یہ اہم تحریک فرمائی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرز تحریر اپنا ئیں تا ہمارے جماعتی لٹریچر ہی میں اس کا نقش قائم نہ ہو بلکہ دنیا کے ادب کا رنگ ہی اس میں ڈھل جائے۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود سے دنیا میں جو بہت سی برکات ظاہر ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک بڑی برکت آپ کا طرز تحریر بھی ہے۔جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے الفاظ جو ان کے حواریوں نے جمع کئے ہیں یا کسی وقت بھی جمع ہوئے ان سے آپ کا ایک خاص طرز انشاء ظاہر ہوتا ہے اور بڑے بڑے ماہرین تحریر اس کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز تحریر بھی بالکل جدا گانہ ہے اور اس کے اندر اس قسم کی روانی زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجو د سادہ الفاظ کے باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طور پر دنیا نا واقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کلام مبالغہ ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان