تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 296
292 ظافت ماشیہ کا اٹھارہواں سال تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔بڑے صاحب کردار بزرگ تھے "۔انجمن " صفحه ۱۲۵ تا ۱۳۲ از فقیر سید وحید الدین صاحب پر نٹر و پبلشر لا ئن آرٹ پر لیں۔کراچی) طبع اول ۱۹۷۶ء۔امیر اہلحدیث کا مباہلہ کے لئے چیلنج اور فرار گھڑیالہ ضلع لاہور میں ایک شخص سید محمد شریف تھے۔جن کا دعویٰ تھا کہ پنجاب کے اہلحدیث کا ایک حصہ ان کے ساتھ ہے۔سید صاحب نے وسط ۱۹۳۱ء میں حضرت خلیفتہ المسیح کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور خود ہی تاریخ مباہلہ ۱۲/ جولائی ۱۹۳۱ء اور مقام مباہلہ عید گاہ امرتسر مقرر کر دی اور کہا کہ نتیجہ مباہلہ خارق عادت ہو نہ کہ انسانی ہاتھوں سے حضور نے یہ چیلنج پہنچتے ہی ۶/ جولائی ۱۹۳۱ء کو نہ صرف مباہلہ کی تجویز بلکہ مباہلہ کے خارق عادت اثر کی شرط بھی منظور فرمالی مگر مقام و تاریخ مباہلہ اور دوسری تفصیلات طے کرنے کے لئے یہ تجویز پیش کی کہ فریقین کے دو دو نمائندے ہوں جو تین اور مسلمہ فریقین آدمیوں کی موجودگی میں مقام و تاریخ مباہلہ کا فیصلہ کریں تا فریقین میں کسی کو بلا وجہ تکلیف نہ ہو۔اس سلسلہ میں حضور نے اپنی طرف سے مولوی فضل الدین صاحب الـ وکیل اور مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو اپنا نمائندہ مقرر فرمایا۔اس کے ساتھ ہی حضور نے قرآن مجید اور سنت رسول اللہ اللہ کے عین مطابق یہ ضروری قرار دیا کہ مباہلہ سے پہلے فریقین ایک دوسرے پر اتمام حجت کے لئے تقریر کریں دوسرے یہ کہ صرف آپ اور سید محمد شریف صاحب ہی مباہلہ نہ کریں بلکہ اپنے متبعین میں سے کم از کم پانچ پانچ سو افراد شامل کریں"۔سے اس اعلان کے ساتھ حضور نے اپنی جماعت سے مطالبہ کیا کہ خواہ سید محمد شریف صاحب پانچ سو افراد ہی ساتھ لائیں۔ہماری طرف سے ایک ہزار احمدی مباہلہ میں پیش ہوں گے۔اس لئے ہماری جماعت کے وہ دوست جو یقین ، وثوق اور اپنے مشاہدہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا چکے ہیں۔ایک دن کے استخارہ کے بعد اپنا نام پیش کریں۔تا ایک ہزار کی فہرست فریق ثانی کے پاس بھیجوائی جا سکے۔حضرت خلیفتہ المسیح کا خیال تھا کہ یہ چیلنج سنجیدگی پر مبنی ہے اور آپ کو امید بندھ گئی تھی کہ فریقین میں بالآخر مباہلہ ہو گا۔مگر ادھر آپ تو جماعت کے ایک ہزار احمدی کے میدان میں لانے کے لئے تیار ہو گئے ادھر سید صاحب نے اس سے گریز اختیار کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ پہلے ہی مرحلہ پر اس پر اڑ گئے کہ نہ کسی اتمام حجت کی ضرورت ہے نہ ہزار یا پانچ سو افراد کی اور نہ یہ شرائط قرآن و حدیث کے مطابق A+ ہیں۔