تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 293
289 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال سے اپنا رزق خود لے کر آتا ہے۔میزبانی اور مہمانی کی وجہ سے آپس کے تعلقات کی بھی تجدید ہوتی رہتی۔مرزا صاحب اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ادھر میرے اکثر بزرگ بھی مختلف سرکاری محکموں سے وابستہ رہے۔انگریز نے کچھ ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا کہ خوشحال گھرانوں کے لوگ بھی جب تک کسی سرکاری عہدے اور دفتری منصب پر فائز نہ ہوتے زیادہ باد قارنہ سمجھے جاتے تھے۔سرکاری ملازمت نشان عزت تھی۔مرزا صاحب اردو فارسی اور عربی زبانوں پر بڑا عبور رکھتے تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے۔سرکاری ملازمت میں انہوں نے اپنے فرائض بڑی محنت ، ذہانت اور دیانت داری سے انجام دیئے۔جس جگہ بھی رہے ، نیک نام رہے۔بالا دست افسر بھی خوش ما تحت عملہ اور اہل معاملہ عوام بھی مطمئن۔وہ اپنی ان خوبیوں کے سہارے ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچے۔جو اس زمانے میں ایک ہندوستانی کی معراج تھی۔سادہ لباس سادہ طبیعت انکسار اور مردت ان کے مزاج کا خاصہ تھا۔ان کی ذات کے جو ہر اس وقت پوری طرح نمایاں ہو کر سامنے آئے ، جب وہ ریاست بہاول پور کے وزیر بنا کر بھیجے گئے۔کوٹھی میں داخل ہوتے ہی ملازمین سے کہا۔" سلطان احمد اس ٹھاٹھ باٹھ اور ساز و سامان کا عادی نہیں ہے"۔چنانچہ ان کے کہنے سے تمام اعلیٰ قسم کا فرنیچر اور ساز و سامان اکٹھا کر کے ایک کمرے میں مقفل کر دیا گیا۔انہوں نے رہنے کے لئے صرف ایک کمرہ منتخب کیا۔نمائش اور دکھاوا تو انہیں آتا ہی نہیں تھا۔لباس اور رہائش کی طرح کھانا بھی سادہ کھاتے۔جب ملازمت سے ان کے سبکدوش (ریٹائر) ہونے کا وقت آیا تو انہی دنوں پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد حکومت کے خلاف ترک موالات (نان) کو آپریشن) کے ہنگامے شروع ہو گئے۔پہلے لاہور اور پھر گوجرانوالہ ان ہنگاموں کی لپیٹ میں آگیا۔مرزا سلطان احمد گوجر انوالہ میں ڈپٹی کمشنر تھے۔وہاں سب سے زیادہ ہنگائے ہوئے۔عوام کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ لیڈروں کی ہدایات کے بر خلاف انہوں نے آئینی حدود کو تو ڑ دیا۔بعض سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ریلوے اسٹیشن کو پورے کا پورا جلا دیا۔ایک جم غفیر ہاتھوں میں بانس لاٹھیاں اور اینٹ پتھر لئے ہوئے ضلع کچھری کی طرف بڑھا۔مرزا سلطان احمد ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ اگر اپنے تدبر اور خوش بیانی سے کام نہ لیتے تو یہ مشتعل لوگ نہ جانے کیا کر کے دم لیتے۔مرزا صاحب نے اس پر جوش ہجوم کے سامنے ایسی سلجھی ہوئی تقریر کی کہ نفرت و غصہ کی یہ آگ ٹھنڈی ہو گئی۔وہی جلوس مرزا سلطان احمد کی سرکردگی میں شہر کو