تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 294
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 290 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال واپس ہوا اور جن کی زبانوں پر " انگریز مردہ باد کے نعرے تھے وہ اب " مرز اسلطان احمد زندہ باد" کے جیکارے لگانے لگے۔ترک موالات کے ہنگامے ٹھنڈے پڑ گئے تو گورنر پنجاب نے ایک ملاقات میں مرزا سلطان احمد سے کہا کہ آپ گوجر انوالہ کا انتظام ٹھیک طور پر نہ کر سکے۔مرزا صاحب اس کے جواب میں بولے کہ لاہور میں تو ”یور ایکسی لینسی" بہ نفس نفیس موجود تھے۔پھر بھی یہاں کے ہنگاموں کو نہ روک سکے۔آپ یہاں روکتے تو یہ ہنگامے وہاں نہ پہنچتے۔مرزا صاحب کے اس جرات مندانہ معقول جواب پر لاٹ صاحب خفیف ہو کر رہ گئے۔انگریز حکومت نے جب پنجاب میں مارشل لاء نافذ کیا تو وہ بڑی سختی اور شدید آزمائش کا زمانہ تھا۔امرتسر لاہور، گوجرانوالہ اور حافظ آباد کے باشندوں پر سب سے زیادہ سختی کی گئی۔میں اس زمانے میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔بڑے تشدد اور جبرو استبداد کا دور تھا۔برطانوی ملوکیت چنگیزیت پر اتر آئی تھی۔ہر روز ایک سے ایک سخت حکم نافذ ہو تا۔شہری آزادی برطانوی سامراج کے شکنجے میں کسی جارہی تھی حکم دیا گیا کہ شہر کی تمام موٹر کارمیں ہیڈ کوارٹر میں جمع کرادی جائیں۔اس وقت لاہور میں مشکل سے پچاس ساٹھ کارمیں ہوں گی۔پھر حکم ہوا کہ موٹر سائیکلیں بھی ہیڈ کوارٹر پہنچا دی جائیں۔اس کی بھی لوگوں کو جبرا قہر ا تعمیل کرتے ہی بنی ، مگر جور و ستم کا یہ سلسلہ اس حد پر بھی نہ رک سکا ایک اور فرمان صادر ہوا جس کی تعمیل میں سائیکلیں تک سرکاری تحویل میں دے دینی پڑیں۔حکم یہ تھا کہ سائیکلیں پمپ اور لیمپ سمیت جمع کرائی جائیں۔جن بیچاروں کے پاس لیمپ اور پمپ نہ تھے انہوں نے بازار سے مول لے کر سرکاری محکم کی تعمیل کی۔ایسا محسوس ہو تا تھا جیسے مارشل لاء کی تلوار ہر کسی کے سر پر لٹک رہی ہے۔راقم الحروف کے پاس بھی ایک سائیکل تھی۔جو کئی سال کی رفاقت کے سبب مجھے بہت عزیز تھی۔میں اسے مع ساز و سامان دل پر جبر کر کے ایمپائر (لاہور میں صرف یہی ایک سینما ہال تھا جس میں انگریزی کی خاموش فلمیں دکھائی جاتی تھیں) کے مرکز میں داخل کرا آیا۔حکم حاکم ، مرگ مفاجات ! والد مرحوم اس زمانے میں حافظ آباد میں تعینات تھے جو فسادات اور ہنگاموں کے اعتبار سے کافی متاثر علاقہ تھا اور انگریز کی خاص توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔انگریز ڈپٹی کمشنر نے ان سے دریافت کیا " آپ کے خیال میں مارشل لاء کو کتنی مدت تک قائم رکھنا چاہئے "؟ والد مرحوم نے دست بستہ عرض کیا " صاحب ! بہت ہو چکا ہے۔اب بس کرو۔ان کے اس فقرے میں نہ جانے کتنے مظلوموں کی فریاد و فغاں شامل تھی۔ڈپٹی کمشنر اس فقرے کو سن کر ایک دم سنجیدہ (SERIOUS) ہو کر خاموش ہو گیا۔اس کی اس خاموشی کا راز اس وقت کھلا جب ایک ہفتے کے اندر