تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 292 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 292

تاریخ ا د 288 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال آخری عمر میں مرحوم کا چہرہ بہت حد تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک سے مشابہ نظر آیا کرتا تھا۔اور رنگ بھی بہت صاف ہو گیا تھا۔آخر ان کی صفائی باطن کے مطابق اللہ تعالی نے انہیں سلسلہ میں داخل ہونے اور پھر حضور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی فالحمد لله على ذالك۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کی آغوش میں جگہ دے اور جنت میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا روحانی قرب نصیب کرے"۔" اردو کا ایک بھلایا ہوا اہل قلم سیاست جدید " ( کانپور) حال میں ہی لکھتا ہے۔۔۔۔۔۔اس بیسویں صدی کے شروع کے بیس سالوں میں اردو کے کسی بھی قابل ذکر رسالہ کو اٹھا کر دیکھ لیجئے اس کے مضمون نگاروں میں ایک نام مرزا سلطان احمد کا ضرور نظر آئے گا۔عمومی- علمی و فلسفیانہ موضوعوں پر قلم اٹھاتے تھے ان کے مضامین عام اور عوامی سطح سے بلند اور سنجیدہ مذاق والوں کے کام کے ہوتے تھے۔رسالہ الناظر مشہور زمانہ کانپور۔۔۔ادیب الله آباد - مخزن لاہور۔پنجاب لاہور وغیرہ میں ان کی گلکاریاں نظر آتی تھیں۔رفتہ رفتہ اردو والوں نے انہیں بالکل ہی بھلا دیا۔ان کے قلم سے چھوٹی بڑی بہت سی کتابیں نکلی تھیں جن کی میزان چالیس در جن سے کم نہ ہو گی۔کسی کتاب کو ان کے خصوصی طرز تحریر کے باعث قبولیت عام نصیب نہ ہوئی۔اور اب جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد اس سرزمین میں اردو کی خدمت ہو رہی ہے اور بہت پرانے مصنفوں اور مؤلفوں کی کتابیں جو گمنام اور مثل گمنام کے ہو چکی تھیں وہاں بڑے آب و تاب سے چھاپی جارہی ہیں۔ان کے ذخیرہ تصانیف کی طرف سے کسی کو بھی تاحال توجہ کی توفیق نہیں ہوئی۔جناب فقیر سید وحید الدین صاحب کا قابل قدر نوٹ جناب فقیر سید وحید الدین صاحب لکھتے ہیں۔" مرزا سلطان احمد میرے بزرگوں سے ان کے دوستانہ مراسم اور قریبی روابط تھے اس زمانے میں ہوٹل موجود ہی نہ تھے۔نہ آج کی طرح عالی شان ہوٹل تعمیر کرنے یا ان میں قیام کرنے کا تصور تھا۔مہمان آتے اور اپنے قریبی اقارب و احباب کے پاس ٹھرتے۔عام لوگوں کے لئے سرائیں تھیں۔دوست دوستوں کے یہاں آتے اور بلا تکلف قیام کرتے۔مہمان نوازی شرافت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔مہمان سے لوگ اکتاتے نہ تھے ، بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ مہمان کا آنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث ہوتا ہے اور مہمان غیب