تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 291
احمدریت، جلد ۵ 287 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال فرمائش پوری کر دی۔اردو زبان کے بہت سے مضمون نگاروں نے ان کی طرز انشاء کو سامنے رکھکر لکھنا سیکھا افسوس کہ ایسا ہمہ گیرد همه رس انشاء پرداز موت کے ہاتھوں نے ہم سے چھین لیا۔مرزا صاحب مرحوم سیلف میڈ (خودساز) لوگوں میں سے تھے۔آپ نے پٹواری کی حیثیت سے ملازمت شروع کی اور ڈپٹی کمشنر تک ترقی کی۔آپ مرزا غلام احمد صاحب ( مسیح موعود) کے فرزند تھے۔اپنے محترم باپ کی زندگی میں ان کی نبوت بروزی " پر ایمان نہیں لائے۔ان کی وفات کے بعد اور اپنی وفات سے کچھ دن پہلے اپنے چھوٹے بھائی حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی۔اردو میں بیش قیمت لٹریچر آپ نے اپنی یادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔علم اخلاق پر آپ کی کتابیں اردو زبان کی قابل قدر تصانیف میں سے ہیں " - 0 انجمن حمایت اسلام لاہور کے ترجمان "حمایت اسلام “ور جولائی ۱۹۳۱ء نے لکھا۔" یہ خبر گہرے حزن و ملال کے ساتھ سنی جائے گی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے صاحبزادے خان بهادر مرزا سلطان احمد صاحب جو پراونشل سول سروس کے ایک ہر دلعزیز اور نیک نام افسر تھے۔اس جہان فانی سے رحلت کر گئے۔خان بہادر صاحب مرحوم نے علم و ادب پر جو احسانات کئے ہیں وہ کبھی آسانی سے فراموش نہیں کئے جاسکتے ان کے شغف علمی کا اس امر سے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ ملازمت کی انتہائی مصروفیتوں کے باوجود گراں بہا مضامین کے سلسلے میں پیہم جگر کاری کرتے رہے۔ہمیں مرحوم کے عزیزوں اور دوستوں سے اس حادثہ میں دلی ہمدردی ہے۔باری تعالیٰ مرحوم کو فردوس کی نعمتیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے"۔حضرت مرزا سلطان احمد ان کی شکل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مشابہت پائی جاتی تھی اور کوئی نظم پڑھتے وقت گنگنانے کی آواز تو حضور علیہ السلام کی طرز سے بہت ہی ملتی تھی۔آپ سے ملنے والے آپ سے مل کر روئے مبارک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مشابہت پاکر روحانی مسرت حاصل کیا کرتے تھے۔چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ۴/ جولائی ۱۹۳۱ء کو حضرت امیر المومنین کی خدمت میں جو عریضہ تعزیت ارسال کیا۔اس میں لکھا۔" آج الفضل میں جناب میرزا سلطان احمد صاحب کی وفات کی خبر پڑھی انا لله و انا اليه راجعون مجھے جب کبھی مرحوم کی بیماری کے آخری ایام میں مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا تو مرحوم کو دیکھ کر یہ مصرعہ میری زبان پر جاری ہو جایا کرتا تھا۔ع - '' دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے