تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 284
تاریخ احمدیت جلد ۵ 280 خلافت عثمانیہ کا اٹھا ر ہواں سال اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی تعلیم کے مطابق مجبور ہے کہ آپ کے فعل کو غلطی پر محمول کرے۔لیکن ساتھ ہی جماعت اس امر کو بھی محسوس کر رہی ہے کہ آپ نے غیرت اور دینی جوش کا ایسا نمونہ دکھایا ہے کہ اگر اس فعل کے بدلہ میں آپ کو سزائے پھانسی مل جائے تو یقیناً جماعت اس امر کو محسوس کرے گی کہ آپ نے اپنی غلطی کا بدلہ اپنی جان سے دے دیا اور آپ کا اخلاص باقی رہ گیا۔جسے وہ ہمیشہ یادر رکھنے کی کوشش کرے گی۔لیکن اگر آپ سے کسی قسم کا خوف ظاہر ہو یا گھبراہٹ ظاہر ہو تو یقیناً جماعت کے لئے یہ ایک صدمہ کی بات ہوگی۔اور آپ کے پہلے فعل کو وہ کسی دینی غیرت کا نتیجہ نہیں بلکہ عارضی جوش کا نتیجہ خیال کرے گی۔پس آج اس وقت کا معاملہ نہ صرف یہ کہ آپ کے اپنے و قار پر اثر انداز ہو گا بلکہ جماعت کے وقار پر بھی۔جس کے لئے کابل کے شہداء نے ایک اعلیٰ معیار قائم کر دیا ہے۔پس جہاں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پیالے کو آپ سے ملا دے اور آپ بھی دعا کریں کہ ایسا ہی ہو رہاں ہر ایک احمدی یہ امید کرتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی مشیت ہماری خواہشات کے خلاف ہو تو آپ کا رویہ اس قدر بہادرانہ اس قدر دلیرانہ اس قدر مومنانہ ہو گا کہ آئندہ نسلیں آپ کے نام کو یاد رکھیں۔اور آپ کی غلطی کو بھلاتے ہوئے آپ کے اخلاص کی یاد کو تازہ رکھیں اور ان کے دل اس یقین سے پر ہو جائیں کہ ایک احمدی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی مشیت پر خوش ہے اور اسے دنیا کی کوئی تکلیف مرعوب نہیں کر سکی۔قادیان ۹/۴/۳۱ خلیفتہ المسیح خاکسار ( دستخط مرزا محمود احمد ) آخر پریوی کو نسل نے بھی فیصلہ بحال رکھا اور قاضی محمد علی صاحب کو خدا کی طرف سے آخری بلاوا آ پہنچا۔خدا کی مشیت از لی پوری ہوئی اور آپ ۱۶/ مئی ۱۹۳۱ء کو گورداسپور جیل میں بوقت 4 بجے صبح تختہ دار پر لٹکا دیے گئے فاناللہ وانا اليه راجعون۔قاضی صاحب کی نعش گورداسپور سے قادیان پہنچائی گئی اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے باغ میں پانچ ہزار کے مجمع سمیت نماز جنازہ ادا کی پھر دوستوں نے آپ کا چہرہ دیکھا اور فوٹو لیا۔گیا اور آپ بہشتی مقبرہ کی مقدس خاک میں دفن کر دیئے گئے۔قاضی صاحب بڑے حق پرست ، متقی اور خدا ترس انسان تھے۔وکیلوں اور قانون دانوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیان کو قانونی رنگ میں ڈھال لیں تو وہ الفاظ کے معمولی ہیر پھیر سے سزا سے بچ سکتے ہیں۔مگر انہوں نے معمولی سا اختلاف بھی گوارا نہ کیا۔پھانسی قبول کرلی۔مگر سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آپ کی حق پرستی کو سراہتے ہوئے