تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 285
تاریخ احمدیت جلد ۵ فرماتے ہیں۔281 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال عدالت کے فیصلہ کے ہم پابند نہیں اس نے اپنا کام کیا اور اپنی رائے کے مطابق انہیں پھانسی دے دی اس پر اس کا کام ختم ہو گیا۔مگر ہم اس کے فیصلہ کو صحیح مانے کے پابند نہیں ہیں۔اس نے اپنے نقطہ نگاہ پر بنیاد رکھی وہ ان کی سچائی سے اس طرح واقف نہ تھی جس طرح ہم واقف ہیں۔ہم نے ان کی صداقت کو دیکھا ہے متواتر ایسے واقعات ہوئے کہ انہیں جھوٹ بولنے کے لئے ورغلایا گیا۔مگر انہوں نے ایک لمحہ کے لئے صداقت کو نہ چھوڑا اور میں ذاتی طور پر واقف ہوں کہ وہ شخص جھوٹانہ تھا اور پانچ نہیں اگر پانچ ہزار گواہ بھی اس کے خلاف شہادت دیں تو ہم انہیں ہی جھوٹا سمجھیں گے۔عدالت نے اگر چہ دیانتداری سے فیصلہ کیا مگر غلط کیا۔واقعہ یہی ہے کہ قاضی صاحب نے قتل نہیں کیا۔ایک آدمی ضرور مرا- مگر معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے۔۔۔۔پس ہم جب قاضی صاحب کی تعریف کرتے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو مار دیا بلکہ اس وجہ سے کہ انہوں نے سچائی کو اختیار کیا۔آخر دم تک اس پر قائم رہے اور بالآخر جان دے دی۔مگر صداقت کو نہ چھوڑا اور یہ وہ روح ہے جو ہم چاہتے ہیں ہر احمدی کے اندر پیدا ہو۔اسی وجہ سے میں ان کے جنازہ میں شامل ہوا"۔ہندوستانی قرآن مجید کی طباعت میں غیر مسلموں کے دخل پر انتقاد و احتجاج مسلمانوں کی غفلت اور عدم تو بہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی ایک غیر مسلموں نے قرآن مجید کی طبع و اشاعت کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔چونکہ ان کا مقصد محض روپیہ کمانا تھا۔اس لئے ان کی طباعت میں خطرناک غلطیاں پائی جاتی تھیں۔مثلا لا ہور کے ایک کتب فروش سنت سنگھ نے قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کیا۔جس میں دوسری عام غلطیوں کے علاوہ قرآن مجید کی آیت میں حضرت آدم کے لئے جہاں خلیفہ کا لفظ آتا ہے۔وہاں خبیث کا لفظ لکھ دیا۔اس دل آزار حرکت کے خلاف اخبار الفضل نے (۳۰/ مئی ۱۹۳۱ء) کو شدید صدائے احتجاج بلند کی۔اور کہا کہ غیر مسلموں کو قرآن مجید کی طباعت اور فروخت سے فور اردک دینا چاہئے۔مسلمانوں کو کسی غیر مسلم کا چھپا ہوا قرآن مجید نہیں خریدنا چاہئے اور مسلمان تاجران کتب کو قرآن مجید کی طباعت و اشاعت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔