تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 283 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 283

ت - جلد ۵ 279 خلافت ثانیہ کا ا نھار ہواں سال لینا چاہئے اللہ تعالیٰ نے جب ایک قانون بنایا ہے تو یقیناً اس نے ہمارے لئے ایسے راہ بھی بنائے ہیں کہ بغیر قانون شکنی کے ہم اپنی مشکلات کا حل سوچ سکیں۔(۲) خواہ آپ سے غلطی ہی ہوئی لیکن چونکہ آپ نے جو کچھ کیا ہے جہاں تک مجھے علم ہے محض دین کے لئے اور اللہ تعالٰی کے لئے کیا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر توکل سے کام لیں۔تو وہ نہ صرف یہ کہ آپ سے عفو کا معاملہ کرے گا بلکہ آپ کو اپنے اخلاص کا بھی اعلیٰ بدلہ دے گا۔(۳) غیب کا علم اللہ تعالٰی کو ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے رحم کا معاملہ کرے گا۔اور آپ کے بچاؤ کی کوئی صورت پیدا کر دے گا لیکن اس کی مشیت پر کسی کو حکومت نہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو برأت کی خواہیں آئی ہیں لیکن خدا تعالی کی برأت اور رنگ میں ہوتی ہے۔اس کی طرف سے یہ بھی ایک برأت ہے کہ غلطی کی سزا اس دنیا میں دے کر انسان کو پاک کر کے اپنے فضل کا وارث کر دے۔پس چونکہ خواہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ان کے ظاہری معنوں پر اس قدر زور نہیں دینا چاہئے۔اور اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ان کی تعبیر کوئی اور ہے تو پھر بھی بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہے۔کوئی انسان دنیا میں نہیں جو موت سے بچا ہوا ہو اور ایسا بھی کوئی نہیں جو کہہ سکے کہ وہ ضرور لمبی عمر پائے گا بڑے بڑے مضبوط آدمی جو ان مرجاتے ہیں اور کمزور آدمی بڑھاپے کو پہنچتے ہیں۔پس کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک خاص قسم کی موت سے بچ بھی جائے تو کل ہی دوسری قسم کی موت اسے پکڑنہ لے گی۔پس کیوں نہ بندہ اللہ تعالی کی مشیت پر راضی ہو تاکہ اس دنیا میں اسے جو تکلیف پہنچی ہو اگلے جہان میں تو اس کا بدلہ مل جائے۔پس میں چاہتا ہوں کہ اس وقت کہ ابھی اپیل پیش ہونے والی ہے آپ کو توجہ دلاؤں کہ اگر خدانخواستہ یہ آخری کوشش بھی ناکام رہے تو آپ کو صبر اور رضاء، نقضاء کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہئے کہ جو ایک مومن کی شایان شان ہو۔ابھی پچھلے دنوں بھگت سنگھ وغیرہ کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے۔لیکن ان لوگوں نے رحم کی اپیل کرنے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کے لئے یہ کام کیا ہے ہم کسی رحم کے طالب نہیں اور پھر بغیر گھبراہٹ کے اظہار کے یہ لوگ پھانسی پر چڑھ گئے۔یہ وہ لوگ تھے جو نہ خدا تعالی پر ایمان رکھتے تھے۔اور نہ مابعد الموت انہیں کسی زندگی یا کسی نیک بدلہ کا یقین تھا۔صرف قومی خدمت ان کے مد نظر تھی اور بس۔ان لوگوں کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہو نا چاہئے جو خداتعالی پر یقین رکھتا ہو اور ایک نئی اور اعلیٰ زندگی کا امیدوار ہو۔