تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 264 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 264

تاریخ احمدیت جلد ۵ 260 خلافت عثمانیہ کا اٹھارہواں سال تعریف کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔قدیم اور زمانہ وسطی کے ادیب اپنی تعریف شعر کی روح سے خاص کر دیتے تھے۔دونوں اپنی اپنی جگہ جو کچھ کہتے ہیں درست کہتے ہیں مگر سچائی کے زیادہ قریب ہونے کے لئے ہمیں ان دونوں تعریفوں کو ملا لینا چاہئے۔مغربی شعراء میں سے ورڈس ورتھ کا یہ خیال ہے کہ شعر نام ہے ان جذبات کا جن کی یاد سکون کے وقت میں پھر تازہ کی جاتی ہے۔یا یہ کہ شعران جذبات کو جو ہم محسوس کرتے ہیں تمثیل کے ذریعہ سے بیرونی دنیا تک پہنچانے کا نام ہے میتھیو آرنلڈ کا نظریہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے جس کا یہ خیال ہے کہ شعر حیات کی تنقید کا نام ہے۔مگر مشہور جرمن فلاسفر ہیگل II کے نزدیک صرف وزن ہی وہ پہلی اور آخری چیز ہے جس کا شعر میں پایا جانا ضروری ہے۔عمده تشبیهات، طرفه خیالات اعلیٰ افکار اچھے اور برے شعر میں فرق کرنے میں تو مدد دے سکتے ہیں لیکن وہ شعر کو شعر نہیں بناتے۔میں یہ کہوں گا کہ ورڈس ورتھ نے ہیگل سے اختلاف نہیں کیا نہ ہیگل نے ورڈس در تھے سے صرف اتنا ہوا ہے کہ ایک استاد الفاظ نے شعر کا فلسفہ بیان کر دیا ہے اور ایک فلاسفر نے اس کی لفظی صورت سے بحث کرلی ہے"۔12 اس کے بعد آپ عربی زبان سے شعر کے معنی بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔مغربی زبان کے مشتقات کی رو سے اس فن پر جو روشنی پڑتی ہے وہ کافی نہیں اور ابتدائی انسان کی جرات کے اظہار سے زیادہ اس سے کچھ پتہ نہیں چلتا۔لیکن میرے نزدیک عربی زبان جو نہایت ہی مکمل زبان ہے۔اور اشتقاق کبیر بلکہ اکبر کی مدعی ہے اس کے مقرر کردہ نام سے ہمیں اس فن کی حقیقت کے متعلق بہت کچھ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں عربی زبان میں کلام منظوم کو شعر کہتے ہیں اور شعر کے معنے پہچاننے کے ہیں اشفاق صغیر پر جو ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اندرونی اور چمٹی ہوئی چیز کے معنے پائے جاتے ہیں۔اور ساتھ چمٹی ہوئی چیز انسان کے لئے اس کے اندرونی جذبات ہیں جو بیرونی اثرات سے متحرک ہو کر جوش میں آجاتے ہیں۔پس شعر کے معنی اشتقاق صغیر کی روشنی میں یہ ہوں گے کہ ایسی بات کو بیان کرنے والا کلام جو ہمارے دل میں موجود ہے اور جو ہمارے بعض جذبات کو اس طرح ابھارتا ہے کہ ہم الفاظ سے جدا ہو کر معافی کی تمام جزئیات سے پوری طرح واقف ہو جاتے ہیں معانی کو محسوس کرتے ہیں گویا وہ ایک مضراب ہے جو ہمارے سازوں میں لرزش پیدا کر دیتی ہے"۔ادبی دنیا کے مدیر جناب تاجور نجیب آبادی نے اس مضمون پر اسی شمارہ میں دو نوٹ لکھے۔(۱) ملک کے ایک مشہور نہ نہیں رہنما جن کی روحانی عظمت کا سکہ ان کے لاکھوں مریدوں ہی نہیں بلکہ امتیوں کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اور جو اپنی مسند خلافت سے احکام الٹی کی تبلیغ اور مذہبی تلقین ہی کو