تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 265
ربیت ، جلد ۵ 261 خلافت ثانیہ کا انھار ہو اپنا منصب خیال فرماتے ہیں۔ادبی دنیا ان کی مقدس مصروفیتوں میں بھی خلل انداز ہوئے بغیر نہ رہا۔اس نمبر میں ” ابن الفارس" کے نام سے جو بلند و گراں مایہ مضمون شائع ہو رہا ہے۔انہی کے خامہ مقدس چکاں کی تراوش ہے"۔(۲) مندرجہ بالا مضمون ایک ایسی شخصیت کے دل و دماغ کی تراوش ہے جو فی الحقیقت کھول انسانوں کے قلوب پر حکمران ہے۔ادبی دنیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اس سے زیادہ اور کیا نہوت ہو گا۔کہ ایسے حضرات اپنے رشحات کرم سے اس کی آبیاری کرتے ہیں۔فاضل مضمون نگار نے ہمیں ”ابن الفارس" کے لطیف و نازک نقاب اٹھانے کی اجازت نہیں دی مگر ہم علامہ اقبال کے ہم نوا ہو کر کہہ سکتے ہیں پر تو حسن تو مے افتد برون مانند رنگ صورت می پرده از دیوار نیا ساختی" رسالہ ادبی دنیا میں دوسرا مضمون حضور نے اگلے سال ۱۹۳۱ء میں ”اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں۔کے اہم موضوع پر ایک اور قیمتی مضمون تحریر فرمایا۔جو ادبی دنیا " مارچ ۱۹۳۱ء ( صفحہ ۱۸۶ تا ۱۸۸) میں آپ کا فوٹو دے کر شائع کیا گیا۔ذیل میں اس اہم مضمون کا مکمل متن درج کیا جاتا ہے۔حضور نے تحریر فرمایا۔اردو زبان کی بڑی وقتوں میں سے ایک یہ وقت ہے کہ اس کی لغت کتابی صورت میں پوری طرح مدون نہیں ہے اور نہ اس کے قواعد پورے طور پر محصور ہیں اور نہ مختلف علمی مضامین کے ادا کرنے کے لئے اصطلاحیں مقرر ہیں مولوی فتح محمد صاحب جالندھری نے قواعد کے بارے میں اچھی خدمت کی ہے اور مولانا شیلی اور مولوی عبدالحق صاحب نے ان کے کام کو جلا دینے میں حصہ لیا ہے۔لغت کا کام مولوی نذیر احمد دہلوی نے کیا ہے اور اصطلاحات کے لئے ہم عثمانیہ یونیورسٹی کے ممنون ہیں۔انجمن ترقی اردو انسی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے لیکن کام اس قدر ہے کہ کسی ایک شخص یا ایک انجمن یا ایک ادارہ سے ہونا نا ممکن ہے۔اردو کے بہی خواہوں نے جو میرے نزدیک بعض مشکلات کو جو اردو زبان سے مخصوص ہیں نظر انداز کر دیا ہے۔مثلاً (1) وہ سب زبانوں میں عمر میں چھوٹی ہے۔(۲) حقیقی شاہی گود میں پلنے کا اسے کبھی موقع نہیں ملا۔جو زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔(۳) اصل میں تو تین لیکن کم سے کم دو مائیں اس کی ضرور ہیں اور مصیبت یہ ہے کہ دونوں سگی ہیں ہر ایک اپنی تربیت کا رنگ اس پر چڑھانا چاہتی ہے اور جب ان کا آپس میں اتحاد نہیں ہو سکا تو دونوں اپنا غصہ اس معصوم پر نکالتی ہیں۔میں نے تو جہاں تک غور کیا ہے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس وقت جھگڑا یہ