تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 263 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 263

تاریخ احمدیت جلد ۵ 259 خلافت عثمانیہ کا یہ عظیم الشان پیشگوئی خدا کے فضل و کرم سے تحریک احمدیت کے ذریعہ سے پوری ہوئی اور ہو رہی ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فقید المثال اردو لٹریچر اور دنیا بھر میں اس کی اشاعت کرنے والی جماعت پیدا کر دی ہے۔اور ساری دنیا میں جہاں جہاں احمدی مشن یا احمدی مسلمان موجود ہیں وہاں اردو سیکھی اور سکھلائی جارہی ہے الغرض اردو کی ترقی و سربلندی کی اساس عالمگیر سطح پر قائم کی جاچکی ہے۔اور خصوصاً حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس اساس کو بلند سے بلند تر کرنے میں اپنے زمانہ خلافت میں سنہری خدمات انجام دی ہیں اور آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کثر التعداد تصانیف و تحریرات اس پر شاہد ہیں۔اس ضمن میں آپ نے اس سال (۳۱-۱۹۳۰ء) میں اردو کی سرپرستی کی طرف خاص طور پر توجہ فرمائی۔مذہبی اور سیاسی میدان میں آپ کی قابلیت کا سکہ پہلے ہی بیٹھ چکا تھا۔اب ادبی حلقوں میں بھی آپ کی دھوم مچ گئی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ آزیبل جسٹس سر عبد القادر صاحب کی نگرانی اور شمس العلماء احسان اللہ خان صاحب تاجور نجیب آبادی (۶۱۸۹۴-۱۹۵۱ء) کی ادارت میں لاہور سے ادبی دنیا" کے نام سے ماہوار اردو کا ایک بلند پایہ رسالہ شائع ہو تا تھا۔جو اپنے معاصرین میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔اس رسالہ (مارچ ۱۹۳۰ء) میں پروفیسر بھوپال سنگھ صاحب ایم۔اے سینئر پروفیسر انگلش (دیال سنگھ کالج لاہور) کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا ” حالی کی تنقید نگاری " حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یہ مضمون بہت دلچسپی سے پڑھا اور آپ کو تحریک ہوئی کہ " شعر " سے متعلق اپنے خیالات سپرد قلم کر کے بھیجوا ئیں۔چنانچہ خودہی فرماتے ہیں۔" ایک پروفیسر اور پھر انگریزی زبان کے پروفیسر کے قلم سے اردو علم ادب کی ایک شاخ کے متعلق مضمون کیسا بھلا معلوم ہوتا ہے میں نے اس مضمون کو نہایت شوق سے دیکھا اس مضمون کے مطالعے کے دوران میں تو سن خیال میں کہیں سے کہیں چلا گیا تا اینکہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہو گئی کہ میں شعر کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کروں"۔اس آرزو کی تکمیل کے لئے آپ نے "ابن رسالہ ”ادبی دنیا میں پہلا مضمون الفارس" کے نام سے ادارہ ادبی دنیا کو ایک مضمون بھجوایا جو مئی ۱۹۳۰ء کے شمارے میں شائع ہوا۔اس مضمون میں جو اپنی نوعیت کا اچھو تا مضمون تھا۔حضور نے مغربی زبان اور عربی مشتقات کی روشنی میں شعر کی تعریف بیان فرمائی اور اس کی کیفیت و ماہیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اعتدال کے ایک نئے زاویہ کی نشان دہی فرمائی۔چنانچہ آپ نے لکھا۔" شعر کا بھی ایک جسم ہے اور ایک روح موجودہ دور کے مغربی علماء میں سے اکثر اس کے جسم ہی سے