تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 256
تاریخ احمدیت جلد ۵ صاحب نے اپنے خط میں فرمایا ہے۔252 خلافت ثانیہ کا ستر ھواری سال -۹۴- اقبال کے آخری دو سال صفحہ ۲۶۵۔ان کا میابیوں کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندو اکثریت کی نمائندہ جماعت آل انڈیا نیشنل کانگریس فرقہ وارانہ مسائل کو کوئی اہمیت دینے کی بجائے اسے محض بیکار چیز سمجھ رہی تھی اس کے نزدیک اصل مسئلہ صرف اور صرف یہ تھا کہ ملک کی باگ ڈور ہندوستان کی اکثریت کے ہاتھ میں دے دی جائے چنانچہ پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے کتاب ” میری زندگی میں کانگرس کی اس مستقل پالیسی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : پہلی گول میز کانفرنس ختم ہو رہی تھی اور اس کے فیصلوں کی بڑی دھوم دھام تھی۔ہمیں اس پر ہنسی آتی تھی اور شاید اس نہیں میں کسی قدر حقارت بھی شامل تھی۔یہ ساری تقریریں اور بخشیں بالکل بیکار اور حقیقت سے خالی تھیں ایک مسئلہ جسب در کنگ کمیٹی کے سامنے پیش تھا فرقہ وارانہ مسئلہ تھا یہ وہی پرانا قصہ تھا جو نئے نئے بھیس بدل کر آتا تھا۔گاندھی جی کا خیال تھا کہ اگر کانفرنس برطانوی حکومت کے اشارے سے پہلے فرقہ وارانہ مسئلے میں الجھے گی تو اصل سیاسی اور معاشی مسائل پر خاطر خواہ غور نہیں کیا جاسکے گا۔گاندھی جی لندن کی دوسری گول میز کانفرنس میں کانگرس کے تنہا نمائندہ کی حیثیت سے گئے تھے۔۔۔ہم گول میز کانفرنس میں کچھ اس لئے تو شریک نہیں ہو رہے تھے کہ جا کر دستور ملکی کی میمنی تفصیلات سے متعلق وہ بخشیں چھیڑیں جو کبھی ختم ہی ہونے میں نہ آئیں اس وقت ان تفصیلات میں ہمیں ذرا دلچسپی نہ تھی اور ان پر تو غور اس وقت ہو سکتا تھا جبکہ برطانوی حکومت سے بنیادی معاملات پر کوئی سمجھوتہ ہو جاتا اصلی سوال تو یہ تھا کہ جمہوری ہند کو کتنی طاقت منتقل کرنی ہے تفصیلات کو طے کرنے اور انہیں قلمبند کرنے کا کام تو کوئی بھی قانون دان بعد کو کر سکتا تھا ان بنیادی امور میں کانگرس کا مسلک صاف اور سید ھا تھا اور اس میں بحث اور دلیل کی زیادہ گنجائش نہ تھی"۔۹۵ الفضل ۱۸دسمبر ۱۹۳۳ء ٩٦ بحواله الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۷ کالم ۳ ۹۷ بحوالہ "اصلاح " سرینگر ۲۴ جولائی ۱۹۴۱ء صفحه ۴ - بحواله الفضل » فروری ۱۹۵۲ء صفحه ۵ 19 بحواله الفضل ۲۲ جون ۱۹۵۲ء صفحه ۸ اقبال کے آخری دو سال " صفحہ ۱۴ ۱۵ 101 بحوالہ الفضل سے فروری ۱۹۵۳ء ۱۰ الفضل جون ۱۹۳۲ء صفحه ۱۱ ۱۰۳ رساله ریویو آف ریلیجرو انگریزی ( قادیان) مئی ۱۹۳۲ء صفحه ۱۵۸ تا ۲۶۲ الفضل اد ممبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۳ ملحصا۔۱۰۵ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷۰ حاشیہ ١٠ الفضل جولائی ۱۹۳۱ء صفحہ ۵ کالم ۱-۲ ۰۱۰۷ ولادت جون ۱۸۶۰ء تاریخ بیعت جون ۱۹۰۵ ء مارچ 1919ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔۱۹۲۳ء میں فتنہ ارتداد کے انسداد کے تبلیغی جہاد میں شامل ہوئے اور کو سمہ ضلع میں پوری نہیں خدمات با اتے وت ۱۹ اپریل ۱۹۳۰ء کو انتقال کیا اور مزار حضرت مولوی عبد الکریم کے قریب دفن کئے گئے۔(الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۳۱ء صفحہ ۹۰۸ ١٠٨۔الفضل ۱۹ اگست ۱۹۳۰ء صفحہ - نہایت مخلص اور صوفی منش در دیش انسان تھے ہندی زبان پر عبور تھا اور ہندی کتب سے حضرت صحیح موعود عليه الصلوۃ والسلام اور اسلام کی صداقت کا بیان آپ کے رگ وریشہ میں داخل تھا اس باب میں کتاب " شری نش کلنک در شن یا ظهور تلگی او تار " آپ کی یاد گار ہے اس کے علاوہ اعلان صحیح نی رو تکفیر مسیح کی غیر مطبوعہ تصنیف بھی ! آنریری طور پر پوری عمر تبلیغ اسلام و احمدیت میں گذاری۔١٠٩ الفضل ۲۶ اگست ۱۹۳۰ء سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مشہور عالم اور محدث تھے آپ نے ۱۸۹۳ء میں مباحثہ آعظم کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی اور جماعت احمد یہ امرت سرکی پہلی انجمن فرقانیہ کے پہلے صدر مقرر