تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 255
تاریخ احمد میت - جلد ۵ 251 خلافت جہاں نو مسلم انگریزوں کی زبان سے قرآن مجید سن کر خوش ہوئے۔اور خصوصاً ایک انگریز نوجوان مسٹر عبد الرحمن ہارڈی کے حسن قرات اور صحت تلفظ سے بے حد محظوظ ہوئے ایک چھ سات سال کی انگریز بچی نے سورہ فاتحہ سنائی جس پر ڈاکٹر صاحب نے اسے ایک پونڈ انعام بھی دیا۔اور امام مسجد لنڈن مولوی فرزند علی صاحب کا شکریہ ادا کیا جن کی توجہ سے یہ موقع میسر آیا تھا۔جناب غلام رسول صاحب مرنے اس واقعہ کی تفصیل لنڈن سے ایک مکتوب میں بھیجوائی تھی جو " انقلاب " (۲۹ اکتوبر ۱۹۳۱ء) میں شائع شدہ ہے (الفضل کیکم نومبر ۱۹۳۱ء میں اس کی نقل بھی چھپ گئی تھی جناب مصر صاحب کا مکتوب ان الفاظ پر ختم ہو تا تھا۔"مولانا فرزند علی نہایت خوش اخلاق اور نیک طبع بزرگ ہیں فرائض امامت و تبلیغ کی بجا آوری کے علاوہ مسلمانوں کے جماعتی سیاسی کاموں میں بھی کافی وقت صرف کرتے ہیں۔اور اس سلسلہ میں انہوں نے یہاں کے اونچے طبقے میں بہت گہرا اثر در سوخ پیدا کر لیا ہے " ان سطور سے یہ اندازہ کچھ مشکل نہیں ہے کہ لندن کا احمدیہ مشن ان دنوں مسلمانوں کی سیاسی خدمات میں کس درجہ دلچسپی لے رہا تھا۔۰۸۵ سری نواس شاستری مراد ہیں۔- ۱۵ نومبر ۱۹۳۰ء کو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بر اور اصغر چوہدری اسد اللہ خانصاحب نے (جو ان دنوں اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن میں مقیم تھے ) حضور کی خدمت میں یہ خط لکھا کل گول میز کانفرنس کا پہلا اجلاس ہوا تھا پبلک کو اندر جائیکی اجازت نہیں تھی نہ ہی پریس کو پہاڑھے دس بجے سے لیکر ایک بجے تک اجلاس ہوا آج پھر برادرم مکرم گئے ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کانفرنس کو اسلام کی طرح کا ایک ذریعہ بنادے "۔۸۷۔ہندوستان کے جن اخباروں میں گول میز کانفرنس کی اطلاعات شائع ہو ئیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے خاص اہتمام سے اسے اپنے دو زاتی کننگ رجسٹروں میں محفوظ کرالیا تھا جو اب تک خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہیں۔۸۸- صحیح لفظ پڑھا نہیں گیا ( مسولف) ۸۹ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب مبلغ لندن کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مفادات کی غرض سے انتھک کوشش کی چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا 'خان صاحب منشی فرزند علی صاحب نے پہلے تو اتنی گھبراہٹ ظاہر کی کہ میں نے یہ سمجھا شاید ساری محنت برباد ہو جائے لیکن جب کام شروع ہوا تو انہوں نے اتنی کوشش اور سرگرمی سے کام کیا کہ اس کا بہت بڑا اثر ہوا۔حتی کہ ولایت کے اخبارات میں کئی تصاویر چھپیں جن میں خانصاحب کو نمائندہ گول میز کانفرنس لکھا گیا۔بلکہ ایک ہوائی جہاز کی تصویر میں انہی کو نمائندہ قرار دیا گیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر جگہ اور ہر سو سائٹی میں مسلمانوں کی تائید اور حمایت کے لئے وہ پہنچتے تھے اور کوشش کرتے رہے " رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ ء صفحہ ۱) جناب شفیع داوری صاحب نے ۱۰ جنوری ۱۹۳۱ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں خان صاحب کے حسن اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے لکھا۔" حضرت مرزا صاحب ، خله السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔میری قسمت میں ہجوم کار اتنا لکھا ہوا ہے که معمولی اخلاقی رسمیات کی انجام دہی سے قاصر رہ جاتا ہوں بارہا میں نے ہندوستان پہنچ کر کوشش کی کہ ایک بار اور جناب کی مہربانیوں کا دلی شکریہ ادا کروں مگر بالکل ہی موقع نہ ملا مجھے فرزند علی خاں صاحب کی بندہ نوازی کبھی بھولنے کی نہیں انہوں نے اخوت اسلام کا سچا نمونہ میرے ساتھ لندن میں پیش کیا اور میں سمجھتا ہوں یہ ان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے ہر ایک کے ساتھ ان کا برتاؤ ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ماشاء اللہ خوب آدمی ہیں بہت ہی مخلص آدمی ہیں خداوند تعالے انہیں ہمیشہ خوش و خرم * رکھے"۔ال شدی همه نبینی کا تذکرہ کتاب کے حصہ دوم میں بڑی تفصیل سے آ رہا ہے یہ حصہ تحر یک آزادی کشمیر سے نصوص ہے۔یعنی کشمیری زعماء اور ڈوگرہ حکومت میں (متولف) خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب (متولف) یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ مارچ ۱۹۳۳ء میں مینوں کا نفرنسوں کی متفقہ تجاویز ایک قرطاس ابیض کی صورت میں شائع کر دی گئی تھی۔اس کے بعد اپریل ۱۹۳۳ء میں لارڈ نلتھگو کی صدارت میں ایک متحدہ پارلیمنٹری کمیٹی مقرر ہوئی جس میں ہندوستانی نمائندے بھی شامل ہوئے اس کمیٹی نے ۱۹۳۴ء میں اپنی رپورٹ پیش کردی اس پارلیمنٹری کمیٹی کا ذکر چوہدری