تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 257
تاریخ احمدیت جلد ۵ -11f 253 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ہوئے بیعت کے بعد مخالفت کی وجہ سے مدرستہ المسلمین امر تسر سے سلسلہ ملازمت جب منقطع ہو گیا تو قادیان ہجرت کر کے تشریف لے آئے اور ایک نہایت ہی قلیل مشاہرہ پر پہلے مدرسہ تعلیم الاسلام میں پھر مدرسہ احمدیہ میں پڑھانے لگے۔اور پنشن یاب ہونے کے بعد بھی آخر دم تک درس تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔اور بخاری مسلم کا سبق مختلف طلباء کو دیتے رہے۔آپ بھیرہ کے رہنے والے اور حضرت خلیفہ اول کے داماد تھے۔قریباً اسی سال کی عمر میں وصال ہوا۔قوئی نہایت اعلی - قد لمبا۔شکل نهایت وجیہ اور بارعب ، طبیعت جلالی تھی مگر حق معلوم ہونے پر نور اغصہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا اپنے فرائض کی ادائیگی میں وقت کے نهایت پابند تھے مجلس معتمدین کے بھی کئی سال ممبر رہے آپ کو علم حدیث میں بالخصوص ید طولی حاصل تھا قرآن مجید کے علوم سے بھی خاص شغف تھا آپ کی طبیعت مجتہدانہ تھی اور قرآن وحدیث کے کئی مقامات میں منفردانہ رائے رکھتے تھے۔خدا تعالٰی نے آزاد خیالی اور حریت رائے کا ایک خاص جو ہر عطا کیا تھا۔قاضی صاحب حضرت خلیفہ ثانی کے استاد تھے مگر حضور ایدہ اللہ تعالی کے ساتھ زبر دست ارادت رکھتے تھے حضور کے ہاتھ پر بیعت کر کے ہر معاملہ میں پوری اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت دیا۔اور۔فتنہ انکار خلافت کے خلاف مردانہ وار کھڑے رہے۔حضرت خلیفتہ المسیح کو بھی آپ سے بہت محبت تھی حضور جب شملہ سے واپس آئے تو الدار میں جانے سے پہلے قاضی صاحب کی عیادت کے لئے ان کے گھر تشریف لے گئے اور ان کی پاکلتی بیٹھ گئے اور اٹھ کر بیٹھنے کی خواہش پر خود حضرت نے ان کو سہارا دے کر اٹھایا۔(الفضل ۲۸ اگست ۱۹۳۰ء صفحه ۹ کالم ۲-۳- الفضل ۲ ستمبر ۱۹۳۰ء صفحہ ۹۷ امرت سر کے احمدیوں میں سب سے پہلے نوجوان جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ابتلاء کے ابتدائی ایام میں قبول کیا۔امرت سر کی احمد یہ مسجد انہی کی کوشش سے جماعت کو لی۔امرت سر میں ان کا مکان آنے جانے والے احمدیوں کے لئے ایک کھلا مہمان خانہ تھا۔(الفضل ۹ دسمبر ۱۹۳۰ء صفحہ ۶-۷ و ۲۰ دسمبر ۱۹۳۰ء صفحه ۸۰۷) ۱۸۹۵ء کے قریب حضرت مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہوئے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے خسر تھے۔اور جماعت احمد یہ امرت سر کے بزرگوں میں احمدیت کا مضبوط قلعہ۔تفصیل کے لئے دیکھیں اصحاب احمد جلد ۵ حصہ اول صفحہ ۷۳۔و اصحاب احمد جلد ۵ حصہ دوم صفحه ۲۱ تا ۲۴- والد ماجد حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری اور سید محمد ہاشم صاحب بخاری (مجاہد افریقہ کے نانا۔اپنے تجر علم، وسعت نظر اور محیر العقول قوت حافظہ کے لحاظ سے ایک نمونہ قدرت الہی تھے اسی برس کی عمر میں انتقال کیا۔آپ حضرت مسیح موعود کے ان قدیم صحابہ میں سے تھے جن کو ۱۸۹۳ء سے تحمل شرفی قبول حاصل ہو ا ( الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۳۰ء والفضل ۲۵دسمبر ۱۹۳۰ء صفحہ کے کالم ۳) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نے نومبر ۱۹۳۰ء کو خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ " حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری اپنے علاقہ میں تو وہ سلسلہ کا ایک ستون ہیں بہت سے احباب ان سے واقف ہونگے اور قادیان میں بعض نے ان کی نظمیں بھی سنی ہو گی۔اپنے علاقہ کے لئے وہ اور ان کے والد سلسلہ کے لئے بہت بابرکت وجود ہیں ( الفضل ۱۳ نومبر، ۱۹۳ ء صفحہ ۶ کالم )) حضرت مسیح موعود کے قدیم ۳۱۳ مخلصین میں سے تھے بہت سے مقدمات اور مباحثات میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ رہے (الفضل ۹ دسمبر ۱۹۳۰ء صفحہ ۲ کالم ۳) الفضل ۱۸ اکتوبر ۱۹۳۰ء صفحه اکالم ۱۵ الفضل ۲۵ فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۱ ۱۶ الفضل ۳۳دسمبر ۱۹۳۰ء صفحہ ۳ کالم ۱۲ مرز افاروق احمد صاحب جو تقریباً اڑھائی سال کی عمر میں فوت ہوئے) -116 الفضل ۷ جنوری ۱۹۳۰ء صفحہ اکالم الفضل فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۱ ۱۹ الفضل کے فروری ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۔مفصل خطبہ کے لئے ملاحظہ ہو الفضل سے مارچ ۱۹۳۰ء صفحہ ۸ تا ۱۱ ۱۲۰ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۷۵ مطبوعه ۲ دسمبر ۱۹۳۰ء ١٣١ الفضل سے مارچ ۱۹۳۰ء صفحہ ۲ کالم ۳۰۱ ۱۳ الفضل ۳۱ جنوری ۱۹۳۰ء صفحه ۱