تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 244
تاریخ احمدیت جلد ۵ 240 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال فصل ہفتم ۱۹۳۰ء کے متفرق و اہم واقعات خاندان مسیح موعود میں ترقی ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۰ء کو حضرت خلیفہ الحی ایدہ اللہ بصرہ العزیز کے حرم اول کے ہاں مرزا اظہر احمد صاحب پیدا ہوئے۔۲۰ فروری ۱۹۳۰ء کو صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی نواسی صبیحہ بیگم صاحبہ پیدا ہو ئیں (جو بعد کو مرزا انور احمد صاحب کے عقد میں آئیں) حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے ہاں ۲۰ دسمبر ۱۹۳۰ء کو ایک فرزند کی ولادت ہوئی۔مشہور مسلم لیڈر مولانا شوکت علی خان صاحب ۳ شوکت علی خان صاحب قادیان میں جنوری ۱۹۳۰ء کو قادیان تشریف لائے۔اور حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی۔اس سلسلہ میں اخبار آفتاب (بمبئی) نے ۲۴ فروری ۱۹۳۰ء کو ایک اخبار کے حوالہ سے مندرجہ ذیل خبر شائع کی۔”مولانا شوکت علی پچھلے دنوں قادیان تشریف لے گئے اور مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کے ہاں فروکش ہوئے۔خلوت میں آپ نے خلیفہ صاحب سے دست بستہ عرض کی کہ میں آپ کی دعاؤں کا محتاج ہوں فی الحال میں آپ کی تبلیغ علی الاعلان نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس طور پر مسلمان مجھ سے ایک دم بد ظن ہو جا ئیں گے انشاء اللہ موقعہ ملنے پر ہر ممکن طریق سے احمدیت ( قادیانیت) کی اشاعت کروں گا“ اس خبر سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ مخالفین احمدیت ان دنوں کس طرح غلط بیانیوں سے کام لے رہے تھے یہ خبر "زمیندار" نے بھی شائع کی تھی جس کی تردید ۲۵ فروری ۱۹۳۰ء کے "زمیندار" میں خود مولانا شوکت علی صاحب نے شائع کر دی تھی۔امنہ الی لائبریری" فروری ۱۹۳۰ء میں قائم ہوئی گول کمرہ امتہ الحی لائبریری کا اجراء میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔[BA] حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ حضرت مرز ا عزیز احمد صاحب کا دوسرا نکاح العزیز نے ۲ فروری ۱۹۳۰ء کو مسجد اقصیٰ