تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 245
تاریخ احمدیت جلد ۵ 241 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال میں بعد نماز عصر مرزا عزیز احمد صاحب خلف اکبر حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کا دوسرا نکاح سیده نصیرہ بیگم صاحبہ (بنت حضرت مولانا میر محمد اسحق صاحب) سے پڑھا۔اور نہایت لطیف خطبہ نکاح ارشاد فرمایا۔ریز روفنڈ میں نمایاں حصہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طرف سے " ریز روفنڈ" کی جو اہم تحریک جاری تھی اس کے قیام میں جن اصحاب نے سب زیادہ حصہ لیا ان میں سر فہرست محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب تھے چنانچہ حضرت خلیفۃ ا ایدہ اللہ تعالٰی نے مجلس مشاورت ۱۹۳۰ ء میں فرمایا :- "دراصل لوگوں نے اس فنڈ کے جمع کرنے میں بہت کم توجہ کی ہے۔اگر پانچ پانچ روپے بھی دوست ماہوار جمع کرنے کی کوشش کرتے تو بہت کچھ جمع کر سکتے تھے بعض نے تو کہا تھا کہ وہ لاکھ لاکھ جمع کر سکتے ہیں مگر نہ معلوم انہوں نے کیوں نہ کیا۔اگر دوست اس طرف توجہ کریں تو ۲۵ لاکھ کا جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور اس سے بہت کافی آمدنی ہو سکتی ہے اس وقت تک ریز رو فنڈ کا زیادہ حصہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جمع کیا ہے اور انہوں نے ایک معقول رقم جمع کی ہے بڑی رقموں کے لحاظ سے چوہدری صاحب کی رقم بہت بڑی رقم ہے۔انگلستان کے ایک مقتدر رسالہ نے جنوری ۱۹۳۰ء کے ایشوع میں انگلستان مشن کا احتجاج آنحضرت ا اللہ اور حضرت عائشہ صدیقہ کا ذکر نهایت ناشائستہ الفاظ میں کیا تھا۔خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب نے اس کا علم ہونے پر ایک طرف ایڈیٹر کو اور دو سری طرف وزیر ہند کو توجہ دلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایڈیٹر رسالہ کو معافی مانگنا پڑی اور حکومت ہند نے اس رسالہ کا داخلہ ملک میں ممنوع قرار دے دیا - 121 (1) حکیم فضل الرحمان مبلغین احمدیت کی بیرونی ممالک کو روانگی اور واپسی مبلغ افریقہ ۲۷ صاحب جنوری ۱۹۳۰ء کو واپس قادیان تشریف لائے۔(۲) مولوی رحمت علی صاحب (دوسری بار) اور مولوی محمد صادق صاحب ( پہلی بار) تبلیغ اسلام کی م غرض سے ۶ نومبر ۱۹۳۰ء کو قادیان سے روانہ ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ انہیں الوداع کہنے کے لئے خود ریلوے سٹیشن پر تشریف لے گئے اور دعاؤں کے ساتھ ان مجاہدوں کو رخصت کیا۔