تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 242 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 242

تاریخ احمدیت جلد ۵ 238 خلافت ثانیہ کا سترھواں اللہ تعالی کی قدرت کا عجیب نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔کہ ایک چھوٹے بھائی کو جو بڑے بھائی سے عمر میں بہت چھوٹا ہے بلکہ اس کی اولاد کے برابر ہے۔خدا تعالٰی نے وہ مرتبہ دیا ہے کہ وہ آج اپنے بڑے بھائی سے یہ الفاظ کہلوا رہا ہے کہ آج میں محمود کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو تا ہوں پھر اس کے بعد یہ الفاظ بھی دہرائے گئے۔کہ آئندہ بھی ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کروں گا شرک نہیں کروں گا۔دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اور جو نیک کام آپ بتا ئیں گے ان میں آپ کی فرمانبرداری کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعووں پر ایمان رکھوں گا۔بیعت کے تمام الفاظ ختم ہو جانے پر حسب معمول حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اور دیگر حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھا کر دعا میں شمولیت کی۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے لا نبقى لك من المخزيات ذكر ا یعنی ہم تمہارے متعلق ایسی تمام باتوں کو جو شرمندگی یا رسوائی کا موجب ہو سکیں مٹادیں گے۔اللہ تعالٰی نے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو بیعت خلافت کی توفیق دے کر اپنا یہ وعدہ غیر معمولی رنگ میں پورا فرما دیا۔چنانچہ سید نا حضرت امیرالمومنین فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جو اعتراض کئے جاتے تھے۔ان میں سے ایک اہم اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ کے رشتہ دار آپ کا انکار کرتے ہیں اور پھر خصوصیت سے یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ آپ کا ایک لڑکا آپ کی بیعت میں شامل نہیں یہ اعتراض اس کثرت سے کیا جاتا تھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں سلسلہ کا درد تھا وہ اس کی تکلیف محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔میں دوسروں کا تو نہیں کہہ سکتا لیکن اپنی نسبت میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے متواتر اور اس کثرت سے اس امر میں اللہ تعالٰی سے دعائیں کیں کہ میں کہہ سکتا ہوں بغیر ذرہ بھر مبالغہ کے بیسیوں دفعہ میری سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہو گئی اس وجہ سے نہیں کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھا وہ میرا بھائی تھا بلکہ اس وجہ ے کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا تھا اور اس وجہ سے بھی کہ یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر پڑتا تھا میں نے ہزاروں دفعہ اللہ تعالی سے دعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ نے اس کا نتیجہ یہ دکھایا کہ مرزا سلطان احمد صاحب جو ہماری دو سری والدہ سے بڑے بھائی تھے۔اور جن کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان کے لئے اب احمدیت میں داخل ہو نا نا ممکن ہے احمدی ہو گئے ان کا احمدی ہونا نا ممکن اس لئے کہا جاتا تھا کہ جس شخص نے اپنے باپ کے زمانہ میں بیعت نہ کی ہو۔اور پھر ایسے شخص کے زمانہ میں بھی بیعت نہ کی ہو جس کا ادب اور احترام اس کے دل میں موجود ہو اس کے